شاعری

خموشی کو کبھی گفتار کرنا

خموشی کو کبھی گفتار کرنا غم و آلام کو دستار کرنا کسی سے وصل کا وعدہ اگر ہو نبھانے سے اسے انکار کرنا دل و جاں سے جسے چاہا ہے تم نے اسی کی زندگی دشوار کرنا دئے تھے غم جسے تحفے میں تم نے اب اس کا آخری دیدار کرنا جو پل کر آستیں میں ڈس رہا ہو اسی پر سب سے پہلے وار کرنا تمنا ہے اگر ...

مزید پڑھیے

ان سے کیوں دل ملا نہیں معلوم

ان سے کیوں دل ملا نہیں معلوم عشق کیوں کر ہوا نہیں معلوم دوست بھی دشمنوں کے جیسے ہیں کون ہے با وفا نہیں معلوم جو اصولوں پہ جان دیتے تھے کیوں ہوئے پر دغا نہیں معلوم رہبری پر تھا جس کی ناز مجھے کیوں ہے بھٹکا ہوا نہیں معلوم دل کی باتیں سنا جو کرتے ہیں کیا انہیں مدعا نہیں ...

مزید پڑھیے

دل میں کچھ درد سوا ہے یارو

دل میں کچھ درد سوا ہے یارو آج رونا بھی روا ہے یارو سانس لیتا ہوں تو دم گھٹتا ہے کیسی بے درد ہوا ہے یارو میں جو ہنستا ہوں تو رو دیتے ہیں تم کو کیا آج ہوا ہے یارو کس نے احساس کی دولت پائی کون دیوانہ ہوا ہے یارو اتنی ویران نہ تھیں یہ آنکھیں ضبط کرنے کا صلہ ہے یارو اپنے دامن میں ...

مزید پڑھیے

رہ گزاروں میں روشنی کے لیے

رہ گزاروں میں روشنی کے لیے لے کے نکلے ہیں آندھیوں میں دیے ذائقہ تلخ ہے محبت کا آدمی زہر غم پیے نہ پیے دل میں یادوں کے رت جگے جیسے ٹمٹماتے ہوں مرگھٹوں کے دیے دل میں طوفان ہیں چھپائے ہوئے ہم تو بیٹھے ہیں اپنے ہونٹ سیے کوئی تجھ سا نظر نہیں آتا دل نے سو رنگ انتخاب کیے در بدر شہر ...

مزید پڑھیے

یقیں بناتا ہے کوئی گماں بناتا ہے

یقیں بناتا ہے کوئی گماں بناتا ہے جو آدمی ہے الگ داستاں بناتا ہے شکست کرتا ہے زنجیر خانہ و محراب اور ایک حلقۂ آوارگاں بناتا ہے گل وجود سے کرتا ہے کسب کوزۂ جاں خمار سود میں لیکن زیاں بناتا ہے کمال بے خبری ہے اگر بہم ہو جائے مگر یہ زیست کو آساں کہاں بناتا ہے پس چراغ ارادہ کوئی تو ...

مزید پڑھیے

افسانۂ حیات پریشاں کے ساتھ ساتھ

افسانۂ حیات پریشاں کے ساتھ ساتھ دنیا بدل گئی غم پنہاں کے ساتھ ساتھ بیتابیٔ حیات میں آسودگی بھی تھی کچھ تیرا غم بھی تھا غم دوراں کے ساتھ ساتھ اب میرے ساتھ ان کی نظر بھی ہے بیقرار نشتر تڑپ رہے ہیں رگ جاں کے ساتھ ساتھ اب امتیاز ظاہر و باطن بھی مٹ گیا دل چاک ہو رہا ہے گریباں کے ...

مزید پڑھیے

فتنہ ساماں ہی نہیں فتنۂ ساماں نکلے

فتنہ ساماں ہی نہیں فتنۂ ساماں نکلے آپ تو خانہ بر انداز دل و جاں نکلے بے خودی میں جسے ہم سمجھے ہیں تیرا دامن عین ممکن ہے کہ اپنا ہی گریباں نکلے دل پہ دھندلے سے نشاں تھے جو غم دنیا کے وہ بھی در پردہ نقوش غم جاناں نکلے پھر وہی ہم وہی بے رونقیٔ دیدہ و دل حسن کے شعبدے اک خواب گریزاں ...

مزید پڑھیے

نیم شب آتش فریاد اسیراں روشن

نیم شب آتش فریاد اسیراں روشن دھوپ سی پھیل رہی ہے سر‌ دیوار چمن یا ترے قرب کی یہ ساعت افسردہ ہے یا کبھی تیرے تصور سے سلگتا تھا بدن دل جلے روئے ہیں شاید کہیں پھر آخر شب بھیگا بھیگا ہے نسیم سحری کا دامن آج تک یاد ہے وہ شام جدائی کا سماں تیری آواز کی لرزش ترے لہجے کی تھکن دل کے ...

مزید پڑھیے

یہ اور بات ہے کہ مداوائے غم نہ تھا

یہ اور بات ہے کہ مداوائے غم نہ تھا لیکن ترا خلوص توقع سے کم نہ تھا کیا کیا فراغتیں تھیں میسر حیات کو وہ دن بھی تھے کہ تیرے سوا کوئی غم نہ تھا کچھ ہم گرفت گردش دوراں میں آ گئے کچھ دل بھی تیرے عشق میں ثابت قدم نہ تھا آئے ہیں یاد تجھ سے بچھڑ کر وہ لوگ بھی جن سے تعلقات بگڑنے کا غم نہ ...

مزید پڑھیے

کیسے شعلوں پہ چل رہا ہے دل

کیسے شعلوں پہ چل رہا ہے دل چاندنی میں بھی جل رہا ہے دل دھیرے دھیرے اسے بھلا دوں گا رفتہ رفتہ سنبھل رہا ہے دل تم نے دزدیدہ اس کو دیکھا ہے جانے کیوں پھر اچھل رہا ہے دل لاکھ ڈھائے ستم ہیں تو نے پر خامشی سے اٹل رہا ہے دل چاند ہے میرے ساتھ بستر میں چاندنی میں ٹہل رہا ہے دل ایک بچے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3818 سے 4657