شاعری

غم سے جب بھی آشنائی ہو گئی

غم سے جب بھی آشنائی ہو گئی یہ جو دنیا تھی پرائی ہو گئی اب دلوں کے درمیاں دیوار ہے یہ خطا تو میرے بھائی ہو گئی وقت کے حاکم کا ٹوٹے گا ستم آج مجھ سے لب کشائی ہو گئی سن کے بھی وہ سن نہ پایا مدعا مفت میری جگ ہنسائی ہو گئی آنکھ سے پوچھا پتہ تیرا کبھی دل کی جانب رہنمائی ہو گئی میں خدا ...

مزید پڑھیے

رلایا جس نے مجھ کو اشک فرحت

رلایا جس نے مجھ کو اشک فرحت وہ ذکر غم تھا یا ذکر محبت نہ جانے عشق میں کچھ خاص کیا ہے بھلی لگنے لگی ہے اپنی صورت ہمیشہ ذہن نے روکا ہے مجھ کو مگر دل کر ہی دیتا ہے بغاوت میں مل کر بات کرنا چاہتا ہوں نکالو تو کبھی تھوڑی سی فرصت جدھر سے جی کرے آ جاؤ گھر میں نہ ہے دیوار کوئی ناں کوئی ...

مزید پڑھیے

اکثر ساری رات ہوئی ہے

اکثر ساری رات ہوئی ہے خود سے میری بات ہوئی ہے بھیگ گئے دونوں کے دامن بن بادل برسات ہوئی ہے لانبی پلکوں کے پیچھے سے دل پر گہری گھات ہوئی ہے شہر میں آ کر کچھ دن میں ہی اونچی اس کی ذات ہوئی ہے میری تیری اس کی اس کی اپنوں سے ہی مات ہوئی ہے آنکھیں روئی سی لگتی ہیں گھر میں کچھ تو بات ...

مزید پڑھیے

بیچ دلوں میں اترا تو ہے

بیچ دلوں میں اترا تو ہے درد ترا البیلا تو ہے روپ ترا اے راجکماری جیسے میری رچنا تو ہے چاند کو تم آواز تو دے لو ایک مسافر تنہا تو ہے سرجن ہارا سرجن ہارا تجھ بن بالک بلکا تو ہے سر عالم کچھ کچھ ہم نے سوچا تو ہے جانا تو ہے کتنی صبحیں برہم ہوں گی شعلہ امشب بھڑکا تو ہے کہنے والے ...

مزید پڑھیے

وہ شوخ دل و جاں کی تمنا تو نہ نکلا

وہ شوخ دل و جاں کی تمنا تو نہ نکلا شعلہ تو نہ نکلا وہ شرارا تو نہ نکلا محسوس کیا درد کے ہر روپ میں اس کو آواز کا افسوں کبھی جھوٹا تو نہ نکلا محرومیٔ جاوید نے دونوں ہی کو مارا یہ راز محبت کوئی گہرا تو نہ نکلا یہ دل کا خرابہ ہی تری راہ گزر تھی کعبہ تو نہ نکلا وہ کلیسا تو نہ نکلا وہ ...

مزید پڑھیے

عشق اپنا عجب تماشہ ہے

عشق اپنا عجب تماشہ ہے اک جہاں ہے کہ ہم کو تکتا ہے جیسے بے ماں کے طفل ہو یہ دل آج کچھ اس طرح سے سہما ہے تجھ کو پا کر بھی شاد کب تھا دل تجھ کو کھو کر بھی ہاتھ ملتا ہے آؤ اس دیس میں چلیں جس جا عشق تپتا ہے روپ جلتا ہے ایک ہی روپ کے ہیولے ہیں گاہ سفیوؔ ہے گاہ میراؔ ہے کتنا نازک ہے ...

مزید پڑھیے

صحرا کا کوئی پھول معطر تو نہیں تھا

صحرا کا کوئی پھول معطر تو نہیں تھا تھا ایک چھلاوا کوئی منظر تو نہیں تھا پھر کیوں تری تصویر ڈھلی روح میں میری افسوں تری آنکھوں کا مصور تو نہیں تھا بن کر مرا اپنا وہ بنا حسرت جاوید تھا خاک کا پتلا ہی مقدر تو نہیں تھا میں بھی تری خلوت کا کوئی ناز چراتا ایسا کوئی قسمت کا سکندر تو ...

مزید پڑھیے

کرب ہجراں زبس ہے کیا کیجے

کرب ہجراں زبس ہے کیا کیجے ہم کو تیری ہوس ہے کیا کیجے نے دماغ وصال ہے ہم کو کچھ انہیں پیش و پس ہے کیا کیجے ہجر میں اس نگار تاباں کے لمحہ لمحہ برس ہے کیا کیجے نگہت گل کے آبگینوں میں مرگ شیریں کا رس ہے کیا کیجے گرچہ درویش ہے عظیمؔ مگر اس کو تجھ سے بھی مس ہے کیا کیجے

مزید پڑھیے

رم جاودانہ غزل ہی تو ہے

رم جاودانہ غزل ہی تو ہے سرود شبانہ غزل ہی تو ہے نمایاں کیا جس نے اس دور کو وہ حور یگانہ غزل ہی تو ہے نہاں جس میں صدیوں کی تشکیل ہے وہ زریں ترانہ غزل ہی تو ہے ادب کا اگر ارتقا ہے تو یہ عروس زمانہ غزل ہی تو ہے یہ سر حسیں سب کو بتلا عظیمؔ یم بیکرانہ غزل ہی تو ہے

مزید پڑھیے

سرور عشق کی مستی کہاں ہے سب کے لیے

سرور عشق کی مستی کہاں ہے سب کے لیے وہ مجھ میں جذب ہوا آ کے ایک شب کے لیے وہ ایک کرب‌ حسیں جو مجھے ہوا ہے عطا نہ تیرے رخ کے لیے ہے نہ تیرے لب کے لیے کبھی تو الٹے سر عام وہ نقاب اپنی ترس رہے ہیں سبھی بادۂ‌ عنب کے لیے ترے وصال کی کب آرزو رہی دل کو کہ ہم نے چاہا تجھے شوق بے سبب کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3819 سے 4657