شاعری

لائی نہ صبا بوئے چمن اب کے برس بھی

لائی نہ صبا بوئے چمن اب کے برس بھی کچھ سوچ کے خاموش ہیں یاران قفس بھی دستور محبت ہی نہیں جاں سے گزرنا کر لیتے ہیں یہ کام کبھی اہل ہوس بھی نازک ہیں مراحل سفر منزل غم کے اس راہ میں کھو جاتی ہے آواز جرس بھی آزاد بھی ہو جائیں گے آخر ترے قیدی اک روز بکھر جائے گی زنجیر نفس بھی انگشت ...

مزید پڑھیے

وہی یکسانیت شام و سحر ہے کہ جو تھی

وہی یکسانیت شام و سحر ہے کہ جو تھی زندگی دست بہ دل خاک بسر ہے کہ جو تھی دیکھ کر بھی ترے جلوے نہیں دیکھے جاتے وہی پابندیٔ آداب نظر ہے کہ جو تھی تجھ سے مل کر بھی غم ہجر کی تلخی نہ مٹی ایک حسرت سی یہ انداز دگر ہے کہ جو تھی شعلۂ درد بجھے دیر ہوئی ہے لیکن وہی تابندگیٔ دیدۂ تر ہے کہ جو ...

مزید پڑھیے

محرومی کے دکھ اور تنہائی کے رنج اٹھائے

محرومی کے دکھ اور تنہائی کے رنج اٹھائے لیکن ہم کو آج بھی جھوٹا پیار نہ کرنا آئے سیل غم دنیا نے دل سے کیا کیا نقش مٹائے ہجر کی راتوں میں اب تیری شکل بھی یاد نہ آئے تنہائی کا سناٹا اور آتی جاتی راتیں تیری یاد نہ اور کوئی غم پھر بھی نیند نہ آئے تیرے معصومانہ پیار کی دولت پا کر ہم ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی ہو مرا حال نمایاں تو نہیں ہے

کچھ بھی ہو مرا حال نمایاں تو نہیں ہے دل چاک سہی خیر گریباں تو نہیں ہے حسن طلب برق ہے تعمیر نشیمن ورنہ ہوس سیر گلستاں تو نہیں ہے کچھ نقش تری یاد کے باقی ہیں ابھی تک دل بے سر و ساماں سہی ویراں تو نہیں ہے ہم درد کے مارے ہی گراں جاں ہیں وگرنہ جینا تری فرقت میں کچھ آساں تو نہیں ...

مزید پڑھیے

ترا خیال بھی ہے وضع غم کا پاس بھی ہے

ترا خیال بھی ہے وضع غم کا پاس بھی ہے مگر یہ بات کہ دنیا نظر شناس بھی ہے بہار صبح ازل پھر گئی نگاہوں میں وہی فضا ترے کوچہ کے آس پاس بھی ہے جو ہو سکے تو چلے آؤ آج میری طرف ملے بھی دیر ہوئی اور جی اداس بھی ہے خلوص نیت رہ رو پہ منحصر ہے عظیمؔ مقام عشق بہت دور بھی ہے پاس بھی ہے

مزید پڑھیے

کچھ نقش تری یاد کے باقی ہیں ابھی تک (ردیف .. ے)

کچھ نقش تری یاد کے باقی ہیں ابھی تک دل بے سر و ساماں سہی ویراں تو نہیں ہے ہم درد کے مارے ہی گراں جاں ہیں وگرنہ جینا تری فرقت میں کچھ آساں تو نہیں ہے ٹوٹا تو عزیز اور ہوا اہل وفا کو دل بھی کہیں اس شوخ کا پیماں تو نہیں ہے

مزید پڑھیے

تنہا سے رہ گئے ہیں شب انتظار میں

تنہا سے رہ گئے ہیں شب انتظار میں ارماں مچل رہے ہیں دل بے قرار میں وعدے پہ آپ آ نہ سکے اس کا غم نہیں لیکن شگاف کیوں پڑا قول و قرار میں مدھم ہوئی چراغ تمنا کی روشنی شاید وہ اب نہ آئے گا سونے دیار میں بربادیوں کا اپنی ہمیں کوئی غم نہیں رسوائیاں تو آپ نے بھی پائیں پیار میں یہ عشق ...

مزید پڑھیے

محفل زیست میں دیکھے ہیں اندھیرے برسوں

محفل زیست میں دیکھے ہیں اندھیرے برسوں تارے گن گن کے کئے ہم نے سویرے برسوں رنج و غم عشق صنم تشنہ لبی نیم شبی دل نازک کو یہ حالات تھے گھیرے برسوں کیوں نہ ہو خوف زدہ لوگ نگہبانوں سے لوٹتے آئے ہیں سب کو یہ لٹیرے برسوں نام الفت ہی سے اب ہوتی ہے دل کو وحشت ہم کو ڈستی رہی یہ شام سویرے ...

مزید پڑھیے

فکر کر عقبیٰ کی عزت کا اگر ارمان ہے

فکر کر عقبیٰ کی عزت کا اگر ارمان ہے چار دن دنیائے فانی کا بشر مہمان ہے خیر و شر کا جائزہ لیتا رہا جو ہر نفس چشم حق آگاہ میں بے شک وہی انسان ہے آئے ہیں دنیا میں ہم تو کام بھی اچھے کریں ورنہ سمجھو زندگی گمنام ہے بے جان ہے جن کو رسوا کر رہا ہے خود پرستی کا نشہ ان سے امید وفا جو رکھے ...

مزید پڑھیے

زخم تم نے جو دئے اس کی دوا کون کرے

زخم تم نے جو دئے اس کی دوا کون کرے راس تنہائی کے آنے کی دعا کون کرے اپنی غلطی کا نہ احساس کبھی ہو جس کو ایسے نادان سے تکرار بھلا کون کرے ہیں جو گمراہ رقیبوں کی کسی سازش میں ان کی دل سوز تباہی کا پتا کون کرے خون کے ساتھ تجارت جو کرے گردوں کی اب یقیں ایسے مسیحا کا بھلا کون کرے گھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3817 سے 4657