لائی نہ صبا بوئے چمن اب کے برس بھی
لائی نہ صبا بوئے چمن اب کے برس بھی کچھ سوچ کے خاموش ہیں یاران قفس بھی دستور محبت ہی نہیں جاں سے گزرنا کر لیتے ہیں یہ کام کبھی اہل ہوس بھی نازک ہیں مراحل سفر منزل غم کے اس راہ میں کھو جاتی ہے آواز جرس بھی آزاد بھی ہو جائیں گے آخر ترے قیدی اک روز بکھر جائے گی زنجیر نفس بھی انگشت ...