شاعری

غلط ہے دل پہ قبضہ کیا کرے گی بے خودی میری

غلط ہے دل پہ قبضہ کیا کرے گی بے خودی میری یہ جنس مشترک ہے جو کبھی ان کی کبھی میری حجاب اٹھتے چلے جاتے ہیں اور میں بڑھتا جاتا ہوں کہاں تک مجھ کو لے جاتی ہے دیکھوں بے خودی میری توہم تھا مجھے نقش دوئی کس طرح مٹتا ہے نقاب رخ الٹ کر اس نے صورت کھینچ دی میری ادھر بھی اڑ کے آ خاکستر دل ...

مزید پڑھیے

بیکار یہ غصہ ہے کیوں اس کی طرف دیکھو

بیکار یہ غصہ ہے کیوں اس کی طرف دیکھو آئینے کی ہستی کیا تم اپنی طرف دیکھو محدود ہے نظارہ جب ہیں یہی دو عالم یا اپنی طرف دیکھو یا میری طرف دیکھو ملنے سے نگاہوں کے کیا فائدہ ہوتا ہے یہ بات میں سمجھا دوں تم میری طرف دیکھو منہ پھیر لیا سب نے بیمار کو جب دیکھا دیکھا نہیں جاتا وہ تم جس ...

مزید پڑھیے

دیکھ کر ہر در و دیوار کو حیراں ہونا

دیکھ کر ہر در و دیوار کو حیراں ہونا وہ مرا پہلے پہل داخل زنداں ہونا قابل دید ہے اس گھر کا بھی ویراں ہونا جس کے ہر گوشہ میں مخفی تھا بیاباں ہونا جی نہ اٹھوں گا ہے بیکار پشیماں ہونا جاؤ اب ہو چکا جو کچھ تھا مری جاں ہونا واہمہ مجھ کو دکھاتا ہے جنوں کے ساماں نظر آتا ہے مجھے گھر کا ...

مزید پڑھیے

جلوہ دکھلائے جو وہ اپنی خود آرائی کا

جلوہ دکھلائے جو وہ اپنی خود آرائی کا نور جل جائے ابھی چشم تماشائی کا رنگ ہر پھول میں ہے حسن خود آرائی کا چمن دہر ہے محضر تری یکتائی کا اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن بھولتا ہی نہیں عالم تری انگڑائی کا اف ترے حسن جہاں سوز کی پر زور کشش نور سب کھینچ لیا چشم تماشائی کا دیکھ ...

مزید پڑھیے

پرتو حسن کہیں انجمن افروز تو ہو

پرتو حسن کہیں انجمن افروز تو ہو دل پر داغ مرا مایۂ صد سوز تو ہو کم سے کم کوئی تو ساماں ترے آنے کا کروں اطلس‌ چرخ تو ہو بستر گل دوز تو ہو رنگ پیراے چمن جوش میں کلیاں چٹکیں کھول دے بند نقاب آج کہ نو روز تو ہو دل میں پیوست نہ ہو جو وہ نظر ہی کیا ہے تیر ترکش میں اگر ہو تو جگر دوز تو ...

مزید پڑھیے

ایک ہی خط میں ہے کیا حال جو مذکور نہیں

ایک ہی خط میں ہے کیا حال جو مذکور نہیں دل تو دل عشق میں سادہ ورق طور نہیں ایک ہم ہیں کہ کسی بات کا مقدور نہیں ایک وہ ہیں کہ کسی رنگ میں مجبور نہیں امتحاں گاہ محبت نہیں گل زار خلیل کون ایسا ہے جو زخموں سے یہاں چور نہیں نزع کا وقت ہے بیٹھا ہے سرہانے کوئی وقت اب وہ ہے کہ مرنا ہمیں ...

مزید پڑھیے

واعظ بتان دیر سے نفرت نہ کیجیئے

واعظ بتان دیر سے نفرت نہ کیجیئے کج بحثیٔ مجاز و حقیقت نہ کیجیے اٹھیے نہ آپ بزم سے غصہ میں اس قدر جاتا ہوں میں حضور قیامت نہ کیجیئے یاد آ ہی جاتا ہے کبھی ناصح کا قول بھی سب کیجیئے جہاں میں محبت نہ کیجیئے بیداد اور اس پہ یہ تاکید الحذر آ جائے دم لبوں پہ شکایت نہ کیجیئے زندوں میں ...

مزید پڑھیے

جب سے ہے وہ رونق محفل آنکھوں میں

جب سے ہے وہ رونق محفل آنکھوں میں جان لبوں پر رہتی ہے دل آنکھوں میں سوکھ رہی ہے جوئے‌ گریۂ گرد نشاں چبھنے لگی ہے اب خاک دل آنکھوں میں ہجر کی راتیں عرصۂ بے خوابی کا سفر کاٹ رہا ہوں منزل منزل آنکھوں میں خون کی لہریں موتی موتی پلکوں پر نکلا دل دریا کا ساحل آنکھوں میں دیکھ رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

فغاں سے ترک فغاں تک ہزار تشنہ لبی ہے

فغاں سے ترک فغاں تک ہزار تشنہ لبی ہے سکوت بھی تو اک انداز مدعا‌ طلبی ہے بہت دنوں میں ہوا اہل آرزو کو میسر وہ قرب خاص جہاں تیری یاد بے ادبی ہے خیال ترک تعلق جنون قطع مراسم تمام سعیٔ طلب ہے تمام تشنہ لبی ہے سکوت شعلۂ گل ہے کہ تیرا پیکر رنگیں وہ آنچ آتی ہے جیسے بدن میں آگ دبی ...

مزید پڑھیے

غم کا یہ سلیقہ بھی رہ گیا ہے اب ہم تک

غم کا یہ سلیقہ بھی رہ گیا ہے اب ہم تک زار زار روتے ہیں آنکھ میں نہیں نم تک یاد جانے والوں کی روشنی خیالوں کی دل کا ساتھ دیتی ہے ایک منزل غم تک تجھ سے مل کے بھی تیرا انتظار رہتا ہے صبح روئے خنداں سے شام زلف برہم تک اب نشاں ملے شاید منزل تمنا کا تیرے ہجر کے غم سے آ گئے ترے غم تک ایک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3816 سے 4657