شاعری

مصیبت تھی ہمارے ہی لئے کیوں

مصیبت تھی ہمارے ہی لئے کیوں یہ مانا ہم جئے لیکن جئے کیوں نہ آنا اور پھر الزام دینا کہ اتنے بے اثر نالے کئے کیوں پس خم پینے میں ہے کیا بزرگی جو پینا ہے تو پھر چھپ کر پئے کیوں جو دی تھی حسن میں یہ دل فریبی مجھے ہوش و حواس اتنے دیے کیوں خیال جنبش مژگاں نہ رکھا ہمارے زخم میں ٹانکے ...

مزید پڑھیے

میرے رونے پہ یہ ہنسی کیسی

میرے رونے پہ یہ ہنسی کیسی اے ستم گر یہ دل لگی کیسی کھل گئی پھر کوئی رگ دل کیا دیدۂ خشک ہیں نمی کیسی ہوش ہے تجھ کو خاک کے پتلے یہ تمرد یہ سرکشی کیسی تھا یہ اک امتحاں طبیعت کا ورنہ ناصح سے دوستی کیسی رو رہا ہوں اسی تصور میں دی تھی یہ مجھ کو زندگی کیسی اب تو اس در تک آ گئے ہو ...

مزید پڑھیے

نہ ہوئی ہم سے شب بسر نہ ہوئی

نہ ہوئی ہم سے شب بسر نہ ہوئی کس سے پوچھیں کہ کیوں سحر نہ ہوئی وہ نظر شوخ و فتنہ زا ہی سہی کیوں مرے حال زار پر نہ ہوئی بزم میں یہ ادا ہمیں سمجھے سب کو دیکھا ادھر نظر نہ ہوئی اے مرا حال پوچھنے والے تجھ کو اب تک مری خبر نہ ہوئی ہم اسی زندگی پہ مرتے ہیں جو یہاں چین سے بسر نہ ...

مزید پڑھیے

یہ مشورہ بہم اٹھے ہیں چارہ جو کرتے

یہ مشورہ بہم اٹھے ہیں چارہ جو کرتے کہ اب مریض کو اچھا تھا قبلہ رو کرتے زبان رک گئی آخر سحر کے ہوتے ہی! تمام رات کٹی دل سے گفتگو کرتے سواد شہر خموشاں کا دیکھیے منظر! سنا نہ ہو جو خموشی کو گفتگو کرتے تمام روح کی لذت اسی پہ تھی موقوف کہ زندگی میں کبھی تم سے گفتگو کرتے جواب حضرت ...

مزید پڑھیے

جام خالی جہاں نظر آیا

جام خالی جہاں نظر آیا میری آنکھوں میں خوں اتر آیا وہ بہت کم کسی نے دیکھا ہے مجھ کو جو کچھ یہاں نظر آیا جھک گئے آسمان سجدے میں کون یہ اپنے بام پر آیا کانپ اٹھا چرخ ہل گئی دنیا وہ جہاں اپنی بات پر آیا اس نے پوچھا مزاج کیسا ہے دل جو امڈا ہوا تھا بھر آیا جب کبھی اس نے کی نظر مجھ ...

مزید پڑھیے

اے دل یہ ہے خلاف رسم وفا پرستی

اے دل یہ ہے خلاف رسم وفا پرستی توبہ بتوں کے آگے ذکر خدا پرستی اک خنجر قضا ہے اک نشتر جفا ہے وہ چشم شوخ جو ہے محو حیا پرستی دکھلاؤں گا تماشا اس آئنے میں تم کو صبح ازل سے دل ہے محو صفا پرستی ظالم کی ہے یہ کوشش اس کو کہیں مٹا دوں مظلوم دل کو میرے فکر بقا پرستی کیوں ساز و برگ ہستی ...

مزید پڑھیے

وہ نگاہیں کیا کہوں کیوں کر رگ جاں ہو گئیں

وہ نگاہیں کیا کہوں کیوں کر رگ جاں ہو گئیں دل میں نشتر بن کے ڈوبیں اور پنہاں ہو گئیں تھیں جو کل تک جلوہ افروزی سے شمع انجمن آج وہ شکلیں چراغ زیر داماں ہو گئیں اک نظر گھبرا کے کی اپنی طرف اس شوخ نے ہستیاں جب مٹ کے اجزائے پریشاں ہو گئیں دم رکا تھا جس کی الجھن سے مرے سینے میں آہ پھر ...

مزید پڑھیے

کام دنیا میں بہت کرنا ہے

کام دنیا میں بہت کرنا ہے قبل مرنے کے ہمیں مرنا ہے آئیے نزع کا ہنگام ہے اب مشورہ آپ سے کچھ کرنا ہے دل نے یہ کہہ کے کہیں چھوڑا ساتھ ہم کو کچھ کام یہاں کرنا ہے قتل کرنے میں تکلف نہ کرو آخر اک روز ہمیں مرنا ہے تم سے اک روز کریں گے تقریر اپنی باتوں میں اثر بھرنا ہے تم کو دکھلائیں گے ...

مزید پڑھیے

کیوں نہ ہو شوق ترے در پہ جبیں سائی کا

کیوں نہ ہو شوق ترے در پہ جبیں سائی کا اس میں جوہر ہے مری آئینہ سیمائی کا طور کشتہ ہے اسی ناز خود آرائی کا برق کی لہر ہے نقشہ تری انگڑائی کا عشق اک تبصرہ ہے حسن کی رعنائی پر حسن اک فلسفہ ہے عشق کی رسوائی کا آج اک خاک کا ذرہ بھی نہیں باقی ہے دل برباد یہ حاصل ہے خود آرائی کا یاد ...

مزید پڑھیے

اس وہم کی انتہا نہیں ہے

اس وہم کی انتہا نہیں ہے سب کچھ ہے مگر خدا نہیں ہے کیا اس کا سراغ کوئی پائے جس چیز کی ابتدا نہیں ہے کھلتا ہی نہیں فریب ہستی کچھ بھی نہیں اور کیا نہیں ہے اس طرح ستم وہ کر رہے ہیں جیسے میرا خدا نہیں ہے تم خوش ہو تو ہے مجھے ندامت ہر چند مری خطا نہیں ہے دیکھو تو نگاہ واپسیں کو اس ایک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3815 سے 4657