چشم ساقی کا تصور بزم میں کام آ گیا
چشم ساقی کا تصور بزم میں کام آ گیا بھر گئی شیشوں میں مے گردش میں خود جام آ گیا مضطرب دل اک تجلی میں فقط کام آ گیا ابتدا ہی میں خیال عبرت انجام آ گیا حسن خود آرا نہ یوں ہوتا حجاب اندر حجاب شان تمکیں کو خیال منظر عام آ گیا حسن نے اتنا تغافل میری ہستی سے کیا رفتہ رفتہ زندگی کا مجھ ...