شاعری

چشم ساقی کا تصور بزم میں کام آ گیا

چشم ساقی کا تصور بزم میں کام آ گیا بھر گئی شیشوں میں مے گردش میں خود جام آ گیا مضطرب دل اک تجلی میں فقط کام آ گیا ابتدا ہی میں خیال عبرت انجام آ گیا حسن خود آرا نہ یوں ہوتا حجاب اندر حجاب شان تمکیں کو خیال منظر عام آ گیا حسن نے اتنا تغافل میری ہستی سے کیا رفتہ رفتہ زندگی کا مجھ ...

مزید پڑھیے

سامنے آئنہ تھا مستی تھی

سامنے آئنہ تھا مستی تھی ان پر اک شان خود پرستی تھی مجھ کو کعبہ میں بھی ہمیشہ شیخ یاد ایام بت پرستی تھی صرف دل ہی نہیں جلا میرا ذرہ ذرہ میں اس کے بستی تھی کیوں زلیخا تری عدالت میں حسن کی جنس ایسی سستی تھی سوجھتا تھا نہ انتظار میں کچھ دیکھنے کو نگہ ترستی تھی دیکھنے ہم گئے تھے ...

مزید پڑھیے

کچھ حساب اے ستم ایجاد تو کر

کچھ حساب اے ستم ایجاد تو کر کس قدر ظلم کئے یاد تو کر زندہ جا سکتے ہیں باہر کہ نہیں دیکھ اسیروں کو اب آزاد تو کر خاک کیوں چھان رہا ہے بتلا تھا بھی دل پاس ترے یاد تو کر ارے منہ ڈھانپ کے رونے والے دم الٹ جائے گا فریاد تو کر ہائے کیا ہوگا بہار آنے تک قیدیٔ کنج قفس یاد تو کر وہ تسلی ...

مزید پڑھیے

صاف باطن دیر سے ہیں منتظر

صاف باطن دیر سے ہیں منتظر ساقیا خذ ما صفا دع ما کدر پھر حیات چند روزہ کا مآل موت پر جب زندگی ہے منحصر رت بدلتے ہی فضا میں گونج اٹھا نغمۂ‌ یا ایہا الساقی ادر ایسے وادی میں نہیں کیا رہ نما خود جہاں گم کردہ منزل ہوں خضر مشورہ رحمت سے کر اے عدل حق کیا سزا جو ہو خطا کا خود مقر کیوں ...

مزید پڑھیے

تری کوشش ہم اے دل سعئ لا حاصل سمجھتے ہیں

تری کوشش ہم اے دل سعئ لا حاصل سمجھتے ہیں سر منزل تجھے بیگانۂ منزل سمجھتے ہیں اصول زندگی جاں دادۂ قاتل سمجھتے ہیں نہ سر کو سر سمجھتے ہیں نہ دل کو دل سمجھتے ہیں غریق بحر الفت آشنائے قلزم معنی جہاں پر ڈوب کر ابھریں اسے ساحل سمجھتے ہیں دیار عشق کے ساکن زمیں پر پاؤں کیا رکھیں یہاں ...

مزید پڑھیے

ہجر کی رات یاد آتی ہے

ہجر کی رات یاد آتی ہے پھر وہی بات یاد آتی ہے تم نے چھیڑا تو کچھ کھلے ہم بھی بات پر بات یاد آتی ہے تم تھے اور ہم تھے چاند نکلا تھا ہائے وہ رات یاد آتی ہے صبح کے وقت ذرے ذرے کی وہ مناجات یاد آتی ہے ہائے کیا چیز تھی جوانی بھی اب تو دن رات یاد آتی ہے مے سے توبہ تو کی عزیزؔ مگر اکثر ...

مزید پڑھیے

بھڑک اٹھیں گے شعلے ایک دن دنیا کی محفل میں

بھڑک اٹھیں گے شعلے ایک دن دنیا کی محفل میں کہاں تک جذب ہوں گی بجلیاں صبر آزما دل میں لہو رونے لگیں گے ساز عشرت چھیڑنے والے ارے یہ درد آواز شکست شیشۂ دل میں یہ چھینٹیں خون کی کافی ہیں میرے بخشوانے کو نظر آتی ہے جنت وسعت دامان قاتل میں ابد تک کوکب بخت سعادت بن کے چمکیں گے ہوئے ...

مزید پڑھیے

مرے ناصح مجھے سمجھا رہے ہیں

مرے ناصح مجھے سمجھا رہے ہیں فریضہ ہے ادا فرما رہے ہیں دھواں اٹھتا ہے اک اک موئے تن سے سزا اپنے کیے کی پا ہے ہیں طلسم ہستیٔ فانی دکھا کر ابھی کچھ دیر وہ بھلا رہے ہیں جہاں سے کل ہمیں آنا پڑا تھا وہیں مجبور ہو کر جا رہے ہیں دکھا دیں گے عزیزؔ انجام دنیا ابھی تو خیر دھوکا کھا رہے ...

مزید پڑھیے

بتاؤں کیا کہ مرے دل میں کیا ہے

بتاؤں کیا کہ مرے دل میں کیا ہے سوا تیرے تری محفل میں کیا ہے بتاؤں کیا کہ میرے دل میں کیا ہے تو ہی تو ہے بھری محفل میں کیا ہے کسی کے بجھتے دل کی ہے نشانی چراغ سرحد منزل میں کیا ہے بجز نقش پشیمانیٔ قاتل نگاہ حسرت بسمل میں کیا ہے جفاؤں کی بھی حد ہوتی ہے کوئی خدا معلوم اس کے دل میں ...

مزید پڑھیے

یہ غلط ہے اے دل بد گماں کہ وہاں کسی کا گزر نہیں

یہ غلط ہے اے دل بد گماں کہ وہاں کسی کا گزر نہیں فقط اس لیے یہ حجاب ہے کہ کسی کو تاب نظر نہیں کہو کچھ حقیقت مشتہر کہ مجھے کہیں کی خبر نہیں یہ مناظر دو جہاں ہیں کیا جو فریب ذوق نظر نہیں کسی آہ میں نہیں سوز جب کسی نالے میں جب اثر نہیں یہ کمال سوزش دل نہیں یہ فروغ داغ جگر نہیں چمک اٹھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3814 سے 4657