شاعری

آئنہ سے بات کرنا اتنا آساں بھی نہیں

آئنہ سے بات کرنا اتنا آساں بھی نہیں عکس کی تہہ سے ابھرنا اتنا آساں بھی نہیں خواہشیں سینے میں اگ آتی ہیں جنگل کی طرح زندگی بانہوں میں بھرنا اتنا آساں بھی نہیں اپنے ہی قدموں کی آہٹ جس جگہ چبھنے لگے ایسی راہوں سے گزرنا اتنا آساں بھی نہیں جانتی ہوں میں جدا ہے میرے خوابوں کا ...

مزید پڑھیے

ایک آشنا اکثر پاس سے گزرتا ہے

ایک آشنا اکثر پاس سے گزرتا ہے مجھ پہ میری سچائی آشکار کرتا ہے کس قدر ہٹیلا ہے تیرا بے زباں سایہ جسم کی طرح اکثر روح میں اترتا ہے آپ کس لئے مجھ کو دیکھتے ہیں حیرت سے آدمی محبت میں کچھ بھی کر گزرتا ہے کیا خبر یہ بستی ہی آندھیوں میں اڑ جائے اک پرندہ پر اپنے کھولنے سے ڈرتا ہے تیرے ...

مزید پڑھیے

رات کئی آوارہ سپنے آنکھوں میں لہرائے تھے

رات کئی آوارہ سپنے آنکھوں میں لہرائے تھے شاید وہ خود بھیس بدل کر نیند چرانے آئے تھے جیون کے وہ پیاسے لمحے برسوں میں راس آئے تھے رات تری زلفوں کے بادل مستی میں لہرائے تھے ہائے وہ مہکی مہکی راتیں ہائے وہ بہکے بہکے دن جب وہ میرے مہماں بن کر میرے گھر میں آئے تھے تم کو بھی آغاز محبت ...

مزید پڑھیے

آج اچانک پھر یہ کیسی خوشبو پھیلی یادوں کی

آج اچانک پھر یہ کیسی خوشبو پھیلی یادوں کی دل کو عادت چھوٹ چکی تھی مدت سے فریادوں کی دیوانوں کا بھیس بنا لیں یا صورت شہزادوں کی دور سے پہچانی جاتی ہے شکل ترے بربادوں کی شرط شیریں کیا پوری ہو تیشہ و جرأت کچھ بھی نہیں عشق و ہوس کے موڑ پہ یوں تو بھیڑ ہے اک فرہادوں کی اب بھی ترے کوچے ...

مزید پڑھیے

کہتے ہیں ازل جس کو اس سے بھی کہیں پہلے

کہتے ہیں ازل جس کو اس سے بھی کہیں پہلے ایمان محبت پر لائے تھے ہمیں پہلے اسرار خود آگاہی دیوانے سمجھتے ہیں تکمیل جنوں آخر معراج یقیں پہلے چمکا دیا سجدوں نے نقش کف پا لیکن روشن تو نہ تھی اتنی یہ میری جبیں پہلے ہر بار یہ رہ رہ کر ہوتا ہے گماں مجھ کو شاید ترے جلووں کو دیکھا تھا ...

مزید پڑھیے

بچے بھی اب دیکھ کے اس کو ہنستے ہیں

بچے بھی اب دیکھ کے اس کو ہنستے ہیں اس کے منہ پر رنگ برنگے سائے ہیں جلتی آنکھیں لے کر بھی اتراتا ہوں سب کے سپنے میرے اپنے سپنے ہیں میرا بدن ہے کتنی روحوں کا مسکن میری جبیں پر کتنے کتبے لکھے ہیں جب سے کسی نے بیچ میں رکھ دی ہے تلوار ہم سایے بھی ہم سایے سے ڈرتے ہیں شہری بھونرے سے ...

مزید پڑھیے

ساری دنیا میں دانہ ہے اپنے گھر میں کچھ بھی نہیں

ساری دنیا میں دانہ ہے اپنے گھر میں کچھ بھی نہیں ایسا لگتا ہے اب اس کے کیسۂ زر میں کچھ بھی نہیں ذوق نظر پھر آمادہ ہے جلووں کی پیمائش پر خالی آنکھیں یہ کہتی ہیں چاند نگر میں کچھ بھی نہیں خود داری بھی کچا شیشہ فن کاری بھی کچی نیند سب کچھ کھو کر یہ پایا ہے شہر ہنر میں کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

جب زلف شریر ہو گئی ہے

جب زلف شریر ہو گئی ہے خود اپنی اسیر ہو گئی ہے جنت کے مقابلے میں دنیا آپ اپنی نظیر ہو گئی ہے جو بات تری زباں سے نکلی پتھر کی لکیر ہو گئی ہے ہونٹوں پہ ترے ہنسی مچل کر جلووں کی لکیر ہو گئی ہے جو آہ مری زباں سے نکلی ارجن کا وہ تیر ہو گئی ہے شاید کوئی بے نظیر بن جائے وہ بدر منیر ہو ...

مزید پڑھیے

وہ مسکرا کے محبت سے جب بھی ملتے ہیں

وہ مسکرا کے محبت سے جب بھی ملتے ہیں مری نظر میں ہزاروں گلاب کھلتے ہیں تری نگاہ جراحت اثر سلامت باد کبھی کبھی یہ مرے دل کو زخم ملتے ہیں نفس نفس میں مچلتی ہے موج نکہت و نور کچھ اس طرح ترے ارماں کے پھول کھلتے ہیں میں کس طرح تجھے الزام بے وفائی دوں رہ وفا میں ترے نقش پا بھی ملتے ...

مزید پڑھیے

عشق پھر عشق ہے آشفتہ سری مانگے ہے

عشق پھر عشق ہے آشفتہ سری مانگے ہے ہوش کے دور میں بھی جامہ دری مانگے ہے ہائے آغاز محبت میں وہ خوابوں کے طلسم زندگی پھر وہی آئینہ گری مانگے ہے دل جلانے پہ بہت طنز نہ کر اے ناداں شب گیسو بھی جمال سحری مانگے ہے میں وہ آسودۂ جلوہ ہوں کہ تیری خاطر ہر کوئی مجھ سے مری خوش نظری مانگے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 371 سے 4657