آئنہ سے بات کرنا اتنا آساں بھی نہیں
آئنہ سے بات کرنا اتنا آساں بھی نہیں عکس کی تہہ سے ابھرنا اتنا آساں بھی نہیں خواہشیں سینے میں اگ آتی ہیں جنگل کی طرح زندگی بانہوں میں بھرنا اتنا آساں بھی نہیں اپنے ہی قدموں کی آہٹ جس جگہ چبھنے لگے ایسی راہوں سے گزرنا اتنا آساں بھی نہیں جانتی ہوں میں جدا ہے میرے خوابوں کا ...