شاعری

رکھیں ہیں صحرا جو اتنے تو جھیل بھی رکھو

رکھیں ہیں صحرا جو اتنے تو جھیل بھی رکھو کبھی وصال کو تھوڑا طویل بھی رکھو اسے کہو کوئی تصویر بھیج دے اپنی جو جی رہے ہو تو کوئی دلیل بھی رکھو نہ جانے کون سے اشعار کس کو چبھ جائیں جو سچے شعر ہیں کہنے وکیل بھی رکھو تمہیں بھی چاہیے عزت اگر زمانے سے تو اپنے آپ کو تھوڑا ذلیل بھی ...

مزید پڑھیے

عجب سی آج کل میں اک پریشانی میں ہوں یارو

عجب سی آج کل میں اک پریشانی میں ہوں یارو یہی مشکل میری ہے بس میں آسانی میں ہوں یارو مجھے ان جھیل سی آنکھوں میں یوں بھی ڈوبنا ہی ہے نہ پوچھو بارہا کتنے میں اب پانی میں ہوں یارو نہ صورت وصل کی کوئی نہ کوئی ہجر کا غم ہے میں اب کے بار کچھ ایسی ہی ویرانی میں ہوں یارو مجھے لگتا تھا ...

مزید پڑھیے

اور سب کچھ بحال رکھا ہے

اور سب کچھ بحال رکھا ہے ایک بس عشق ٹال رکھا ہے بس ترا ہوں یہ سوچ کر برسوں میں نے اپنا خیال رکھا ہے وہ بدن جادوئی پٹاری ہے ہر کہیں اک کمال رکھا ہے زندگی موت طے مری ہوگی اس نے سکہ اچھال رکھا ہے حال دل کیا اسے بتاؤں میں اس نے سب دیکھ بھال رکھا ہے ہجر پھیلا ہے پورے کمرے میں پرس میں ...

مزید پڑھیے

فیصلہ اس پار یا اس پار ہونا چاہیے

فیصلہ اس پار یا اس پار ہونا چاہیے کیوں جنون عشق کو منجدھار ہونا چاہیے پھول سارے ہی چمن کے داد کے ہیں مستحق عشق آخر کیوں فقط اک بار ہونا چاہیے عشق کا اظہار اتنا اور عمل کچھ بھی نہیں آپ کا تو نام ہی سرکار ہونا چاہیے میں نہیں تو کیا ہزاروں اور تارے ہیں یہاں کیوں کسی بھی رات کو ...

مزید پڑھیے

یا تری آرزو سا ہو جاؤں

یا تری آرزو سا ہو جاؤں یا تری آرزو کا ہو جاؤں مرے کانوں میں جو تو کن کہہ دے میں تصور سا ترا ہو جاؤں مجھ سے اک بار ذرا مل ایسے میں ترے گھر کا پتہ ہو جاؤں تو بھی آ جانا کہیں رکھ کے بدن جسم سے میں بھی جدا ہو جاؤں توڑ کر ماٹی یہ میری پھر سے یوں بناؤ کہ نیا ہو جاؤں عشق کی رسم یہی ہے ...

مزید پڑھیے

مانا کہ میرا جسم یہ جوٹھا گلاس ہے

مانا کہ میرا جسم یہ جوٹھا گلاس ہے لیکن یہ دل تو آج بھی کورا گلاس ہے کتنی ہے کیسی مے ہے یہی بات ہے بڑی چاندی یا کانچ کا سہی رہتا گلاس ہے کچھ تشنگی بھی رکھنی تھی جاناں سنبھال کے تم نے حفاظتوں سے جو رکھا گلاس ہے پینے کا لطف ہے تبھی جب یہ رہے نہ علم تیرا گلاس ہے کہ یہ میرا گلاس ...

مزید پڑھیے

اک دوجے میں بھی تو رہا جا سکتا ہے

اک دوجے میں بھی تو رہا جا سکتا ہے ہجر ابھی کچھ دن ٹالا جا سکتا ہے یوں بھی تو کتنی چیزیں ہیں اس گھر میں میرا دل کچھ روز رکھا جا سکتا ہے خار اگر ہیں پھول بھی تو ہے تھوڑے سے دامن کو تو مہکایا جا سکتا ہے کاش مرا دل وہ بچہ ہی رہتا جو آسانی سے بہلایا جا سکتا ہے پیراہن الفاظ کے بوٹوں ...

مزید پڑھیے

موند کر بس آنکھ اپنی ان مناظر کے خلاف

موند کر بس آنکھ اپنی ان مناظر کے خلاف کر رہے ہیں ہم بغاوت دور حاضر کے خلاف تجھ تلک آواز میری جاتے جاتے کھو گئی راستے سب ہو گئے ہیں اس مسافر کے خلاف حوصلہ جو ہے تو للکارو خدا کو بھی کبھی کیا ملے گا تم کو ہو کر ہم سے کافر کے خلاف ایک ادنیٰ دل کے ہاتھوں دونوں ہیں مجبور ہم آؤ تھامیں ...

مزید پڑھیے

سارے ستاروں کے ہمیں تنہا رقیب تھے

سارے ستاروں کے ہمیں تنہا رقیب تھے ہم ایک شب تو چاند کے اتنے قریب تھے ہاتھوں کو یہ گلہ ہیں بڑے کم نصیب ہم آنکھیں یہ سوچتی ہیں کہ ہم خوش نصیب تھے رکھی ہے آپ ہی کے لیے جاں سنبھال کر یوں شہر میں کچھ اور بھی حسن صلیب تھے ہم میں ہی کچھ کمی تھی جو سمجھے نہ جا سکے ورنہ ہمارے دوست تو سارے ...

مزید پڑھیے

اس کے دل میں بھی ذرا سی چھٹ پٹاہٹ چھوڑ دیں

اس کے دل میں بھی ذرا سی چھٹ پٹاہٹ چھوڑ دیں جاتے جاتے اس کے در پر اپنی آہٹ چھوڑ دیں جام ساقی میکدے سب چھوڑ تو آئے مگر یہ نہیں ممکن ہم اپنی لڑکھڑاہٹ چھوڑ دیں کیا کریں گے ہم قفس کو چھوڑ کر زیر فلک شرط جب یہ ہے کہ اپنی پھڑپھڑاہٹ چھوڑ دیں چھوڑنے کو چھوڑ دیں گے زندگی بھی شوق سے وہ کسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 355 سے 4657