شاعری

ہے اختلاف ضروری تمہیں پتا نہیں ہے

ہے اختلاف ضروری تمہیں پتا نہیں ہے چراغ کیسے جلے گا جہاں ہوا نہیں ہے تمہارے ہاتھ چھڑانے سے رک گیا ہے سفر یہ دھوپ چھاؤں مسافر کا مسئلہ نہیں ہے تمہارے جانے سے بے لطف ہو گئی ہر شے کہ زہر کھا کے بھی دیکھا ہے ذائقہ نہیں ہے میں ڈھونڈ لایا ہوں جب اس کے جیسا دوجا شخص سو اب وہ کہنے لگا ...

مزید پڑھیے

مری خموشی کو بھی اک صدا سمجھتے رہے

مری خموشی کو بھی اک صدا سمجھتے رہے میں کیا تھا اور مجھے لوگ کیا سمجھتے رہے ہماری نسل کو عجلت نے نا مراد کیا ذرا سے شور کو یہ دیر پا سمجھتے رہے یہ دوست میرے مجھے آج تک نہ جان سکے میں ایک درد تھا لیکن دوا سمجھتے رہے دکھائی دیتا تھا یہ شہر میری آنکھوں سے یہاں کے لوگ مجھے آئنہ ...

مزید پڑھیے

میں دیواروں سے باتیں کر رہا تھا

میں دیواروں سے باتیں کر رہا تھا مرے پہلو میں جلتا اک دیا تھا مرے پاؤں کہاں الٹے پڑیں گے مری آنکھوں میں ان کا نقش پا تھا محبت کی کہانی میں نے لکھی وگرنہ یہ تو بس اک واقعہ تھا مرے ہونٹوں سے چپکی جا رہیں تھیں ان آنکھوں کا انوکھا ذائقہ تھا ہمارے مسئلے کا یہ تھا باعث ہمارے ساتھ دل ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسے تیرے بدن کا یہاں نشاں کھلے گا

کچھ ایسے تیرے بدن کا یہاں نشاں کھلے گا کہ جس طرح سے سمندر میں بادباں کھلے گا یہ سوچتے ہی مرے ہاتھ پاؤں پھول گئے مرا نشان کہانی میں کب کہاں کھلے گا گزرتے وقت کسی کو خبر نہیں تھی یہاں کہ ایک دم سے دلوں پر یہ خاک داں کھلے گا میں دائیں بائیں کسی اور سمت بھی دیکھوں کسے خبر کہ کہاں سے ...

مزید پڑھیے

آنکھ سے ہجر گرا دل نے دہائی دی ہے

آنکھ سے ہجر گرا دل نے دہائی دی ہے عشق والوں کی کہاں چیخ سنائی دی ہے رات کی شاخ ہلی اور گرے پیلے پھول درد کے پیڑ نے یوں ہم کو کمائی دی ہے شور اتنا کہ سنائی نہ دیا تھا کچھ بھی آنکھ کھولی ہے تو آواز دکھائی دی ہے اب نئے وصل کی صورت ہے نکلنے والی ہجر نے میرے تجسس کو رسائی دی ہے دن کی ...

مزید پڑھیے

اس کو مری تڑپ کا گماں تک نہیں ہوا

اس کو مری تڑپ کا گماں تک نہیں ہوا میں اس طرح جلا کہ دھواں تک نہیں ہوا یہ چاہتے تھے موت ہی ہم کو جدا کرے افسوس اپنا ساتھ وہاں تک نہیں ہوا تم نے تو اپنے درد کے قصے بنا لئے ہم سے تو اپنا درد بیاں تک نہیں ہوا حیرت ہے وہ بھی شہر بسانے کی ضد میں ہے تعمیر جس سے اپنا مکاں تک نہیں ہوا تصویر ...

مزید پڑھیے

حیران مہربانو کے رومال ہو گئے

حیران مہربانو کے رومال ہو گئے آنسو کمال ضبط سے جب لال ہو گئے یہ دیکھنا ہے کس گھڑی دفنایا جاؤں گا مجھ کو مرے ہوئے تو کئی سال ہو گئے تم ساری عمر کیسے سنبھالو گے نفرتیں ہم تو ذرا سی دیر میں بے حال ہو گئے سائل کو ایک لفظ محبت نہ مل سکا حیرت ہے سارے لوگ ہی کنگال ہو گئے دل کے پرندے اڑ ...

مزید پڑھیے

سفر تھا تھوڑا مگر کتنے موڑ آئے تھے

سفر تھا تھوڑا مگر کتنے موڑ آئے تھے کئی کہانیاں ہم ان میں چھوڑ آئے تھے میں ان پرندوں کو روتا ہوں جو فلک کے لیے زمیں سے اپنا تعلق ہی توڑ آئے تھے سوال سوکھے ہوئے آنسوؤں کا الجھا رہا حساب ویسے تو ہم سارا جوڑ آئے تھے کوئی ملال ہمیں اب رلا نہیں سکتا ہم ایک درد پہ آنکھیں نچوڑ آئے ...

مزید پڑھیے

خواب میں ہاتھ چھڑاتی ہوئی تقدیر کا دکھ

خواب میں ہاتھ چھڑاتی ہوئی تقدیر کا دکھ آنکھ سے لپٹا ہے اب تک اسی تعبیر کا دکھ کوششیں کر کے بہرحال مصور ہارا شوخ رنگوں میں چھپا ہی نہیں تصویر کا دکھ اس کی آنکھوں میں نمی ختم نہیں ہو سکتی پڑھ لیا جس نے بھی ہنستی ہوئی تحریر کا دکھ قید خانے میں یہی سوچ کے واپس آیا مجھ کو معلوم ہے ...

مزید پڑھیے

سلیقے سے اگر توڑیں تو کانٹے ٹوٹ جاتے ہے

سلیقے سے اگر توڑیں تو کانٹے ٹوٹ جاتے ہے مگر افسوس یہ ہے پھول پہلے ٹوٹ جاتے ہے محبت بوجھ بن کر ہی بھلے رہتی ہو کاندھوں پر مگر یہ بوجھ ہٹتا ہے تو کاندھے ٹوٹ جاتے ہیں بچھڑ کر آپ سے یہ تجربہ ہو ہی گیا آخر میں اکثر سوچتا تھا لوگ کیسے ٹوٹ جاتے ہے مری اوقات ہی کیا ہے میں اک ننھا سا آنسو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 307 سے 4657