شاعری

لہولہان سمندر بھی دیکھنا ہے ابھی

لہولہان سمندر بھی دیکھنا ہے ابھی بریدہ حلق پہ خنجر بھی دیکھنا ہے ابھی ابھی سے دشت بلا سے فراغتیں کیسی بلند ہوتا ہوا سر بھی دیکھنا ہے ابھی مصالحت کہاں ہوگی سپاہ شام کے ساتھ زباں کی نوک پہ خنجر بھی دیکھنا ہے ابھی نمیدہ چشم مسافت کی انتہا بھی نہیں اداس نسل کو زد پر بھی دیکھنا ہے ...

مزید پڑھیے

دھوئیں کی اوٹ سے باہر بھی آ گیا ہوتا

دھوئیں کی اوٹ سے باہر بھی آ گیا ہوتا ہمارے ساتھ اگر رشتۂ ہوا ہوتا اسے بھی شعلگی‌ٔ ربط کی شکایت تھی سلگتی آنکھ کی درزوں میں اور کیا ہوتا جہاں نہ پیڑ اگے تھے نہ آگ ہی برسی وہاں ہمارے لیے کون سا خدا ہوتا میں احتجاج سے باہر بھی سوچتا شاید شب فرار اگر کوئی در کھلا ہوتا تڑپ نہیں نہ ...

مزید پڑھیے

کبھی کپڑے بدلتا ہے کبھی لہجہ بدلتا ہے

کبھی کپڑے بدلتا ہے کبھی لہجہ بدلتا ہے مگر ان کوششوں سے کیا کہیں شجرہ بدلتا ہے تمہارے بعد اب جس کا بھی جی چاہے مجھے رکھ لے جنازہ اپنی مرضی سے کہاں کاندھا بدلتا ہے رہائی مل تو جاتی ہے پرندے کو مگر اتنی صفائی کی غرض سے جب کبھی پنجرہ بدلتا ہے مری آنکھوں کو پہلی آخری حد ہے ترا ...

مزید پڑھیے

ہزار زخم ملے پھر بھی مسکراتے ہوئے

ہزار زخم ملے پھر بھی مسکراتے ہوئے گزر گیا ہے کوئی راستہ بناتے ہوئے وہ پوچھ بیٹھا تھا مجھ سے سبب بچھڑنے کا زبان کانپ گئی اس کو سچ بتاتے ہوئے یہ کس گناہ کا احساس ہے مرے دل کو نگاہ اٹھتی نہیں روشنی میں آتے ہوئے عذاب پوچھے کوئی ہم سے کم لباسی کا تمام عمر کٹی ہے بدن چھپاتے ...

مزید پڑھیے

پرندے گھونسلوں سے کہہ کے یہ باہر نکل آئے

پرندے گھونسلوں سے کہہ کے یہ باہر نکل آئے ہمیں اڑنے دیا جائے ہمارے پر نکل آئے سفر میں زندگی کے میں ذرا سا لڑکھڑایا تھا مجھے ٹھوکر لگانے پھر کئی پتھر نکل آئے محبت سے کسی نے جب سفر کی مشکلیں پوچھیں کئی کانٹے ہمارے پاؤں سے باہر نکل آئے بہت سے راز بھی آئیں گے عالی جاہ پھر باہر خفا ...

مزید پڑھیے

جو نہیں کیا اب تک بے حساب کرنا ہے

جو نہیں کیا اب تک بے حساب کرنا ہے اپنے ہر رویے سے اجتناب کرنا ہے اب تو کام آئے گی بے گمان سفاکی خوش گوار پھولوں کو آفتاب کرنا ہے رنگ اپنی چھتری کا دھوپ نے مٹا ڈالا صبح ہونے سے پہلے پھر خضاب کرنا ہے سرفروش لہروں کی سرفروشیاں کب تک سرفروش لہروں کو زیر آب کرنا ہے راستے ذہانت کے ...

مزید پڑھیے

ہم اپنے آپ کو اک مسئلہ بنا نہ سکے

ہم اپنے آپ کو اک مسئلہ بنا نہ سکے اسی لئے تو کسی کی نظر میں آ نہ سکے ہم آنسوؤں کی طرح واسطے نبھا نہ سکے رہے جن آنکھوں میں ان میں ہی گھر بنا نہ سکے پھر آندھیوں نے سکھایا وہاں سفر کا ہنر جہاں چراغ ہمیں راستہ دکھا نہ سکے جو پیش پیش تھے بستی بچانے والوں میں لگی جب آگ تو اپنا بھی گھر ...

مزید پڑھیے

مری وفاؤں کا نشہ اتارنے والا

مری وفاؤں کا نشہ اتارنے والا کہاں گیا مجھے ہنس ہنس کے ہارنے والا ہماری جان گئی جائے دیکھنا یہ ہے کہیں نظر میں نہ آ جائے مارنے والا بس ایک پیار کی بازی ہے بے غرض بازی نہ کوئی جیتنے والا نہ کوئی ہارنے والا بھرے مکاں کا بھی اپنا نشہ ہے کیا جانے شراب خانے میں راتیں گزارنے ...

مزید پڑھیے

سب نے ملائے ہاتھ یہاں تیرگی کے ساتھ

سب نے ملائے ہاتھ یہاں تیرگی کے ساتھ کتنا بڑا مذاق ہوا روشنی کے ساتھ شرطیں لگائی جاتی نہیں دوستی کے ساتھ کیجے مجھے قبول مری ہر کمی کے ساتھ تیرا خیال تیری طلب تیری آرزو میں عمر بھر چلا ہوں کسی روشنی کے ساتھ دنیا مرے خلاف کھڑی کیسے ہو گئی میری تو دشمنی بھی نہیں تھی کسی کے ...

مزید پڑھیے

صرف تیرا نام لے کر رہ گیا

صرف تیرا نام لے کر رہ گیا آج دیوانہ بہت کچھ کہہ گیا کیا مری تقدیر میں منزل نہیں فاصلہ کیوں مسکرا کر رہ گیا زندگی دنیا میں ایسا اشک تھی جو ذرا پلکوں پہ ٹھہرا بہہ گیا اور کیا تھا اس کی پرسش کا جواب اپنے ہی آنسو چھپا کر رہ گیا اس سے پوچھ اے کامیاب زندگی جس کا افسانہ ادھورا رہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 308 سے 4657