سنو اجڑا مکاں اک بد دعا ہے
سنو اجڑا مکاں اک بد دعا ہے صدا اندر صدا اندر صدا ہے خزاں اک غم زدہ بیمار عورت ہوا نے چھین لی جس کی ردا ہے ستارہ جل بجھا مختار تھا وہ دیا مجبور تھا جلتا رہا ہے سر مژگاں ابھر آنا تھا جس کو کہاں وہ مہرباں تارا گیا ہے اگی ہیں چار سو باتیں ہی باتیں عجب سی ہر طرف آواز پا ہے ہوا اس کو ...