شاعری

سنو اجڑا مکاں اک بد دعا ہے

سنو اجڑا مکاں اک بد دعا ہے صدا اندر صدا اندر صدا ہے خزاں اک غم زدہ بیمار عورت ہوا نے چھین لی جس کی ردا ہے ستارہ جل بجھا مختار تھا وہ دیا مجبور تھا جلتا رہا ہے سر مژگاں ابھر آنا تھا جس کو کہاں وہ مہرباں تارا گیا ہے اگی ہیں چار سو باتیں ہی باتیں عجب سی ہر طرف آواز پا ہے ہوا اس کو ...

مزید پڑھیے

وہ پرندہ ہے کہاں شب کو چہکنے والا

وہ پرندہ ہے کہاں شب کو چہکنے والا رات بھر نافۂ گل بن کے مہکنے والا لکۂ ابر تھا بس دیکھنے آیا تھا مجھے کوئی بادل تو نہیں تھا وہ چھلکنے والا راکھ میں آنکھ میں پھولوں پہ کسیلی شب میں بے ضرورت بھی تو چمکا ہے چمکنے والا کس کی آواز میں ہے ٹوٹتے پتوں کی صدا کون اس رت میں ہے بے وجہ ...

مزید پڑھیے

دھار سی تازہ لہو کی شبنم افشانی میں ہے

دھار سی تازہ لہو کی شبنم افشانی میں ہے صبح اک بھیگی ہوئی پلکوں کی تابانی میں ہے آنکھ ہے لبریز شاید رو پڑے گا تو ابھی جیسے ذلت کا مداوا آنکھ کے پانی میں ہے میں نہیں ہارا تو میرے حوصلے کی داد دے اک نیا عزم سفر اس خستہ سامانی میں ہے بے ثمر بے رنگ موسم برف کی صورت سفید اور دل امڈے ...

مزید پڑھیے

سفید پھول ملے شاخ سیم بر کے مجھے

سفید پھول ملے شاخ سیم بر کے مجھے خزاں کو کچھ نہ ملا بے لباس کر کے مجھے تھی دشت خواب میں اک تیری جستجو مجھ کو کہ تجھ سے شکوے ہزاروں تھے عمر بھر کے مجھے میں اپنے نام کی تختی میں تھا شریر ہوا گلی میں پھینک گئی بے نشان کر کے مجھے اب اس نگر میں تو کچھ بھی نہیں ہے رک جاؤ صدائیں دیتے ...

مزید پڑھیے

دھوپ کے ساتھ گیا ساتھ نبھانے والا

دھوپ کے ساتھ گیا ساتھ نبھانے والا اب کہاں آئے گا وہ لوٹ کے آنے والا ریت پر چھوڑ گیا نقش ہزاروں اپنے کسی پاگل کی طرح نقش مٹانے والا سبز شاخیں کبھی ایسے تو نہیں چیختی ہیں کون آیا ہے پرندوں کو ڈرانے والا عارض شام کی سرخی نے کیا فاش اسے پردۂ ابر میں تھا آگ لگانے والا سفر شب کا ...

مزید پڑھیے

اپنے اندر اتر رہا ہوں میں

اپنے اندر اتر رہا ہوں میں دھیرے دھیرے سدھر رہا ہوں میں نور و ظلمت میں امتیاز نہیں اس کنوئیں میں اتر رہا ہوں میں جس کو دیکھو چرا رہا ہے نگاہ کس گلی سے گزر رہا ہوں میں خود کو اک دن سمیٹنا بھی ہے آج کل تو بکھر رہا ہوں میں چھوڑا اندیشہ ہائے دور دراز جی رہا ہوں کہ مر رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

صدائے آفریں اٹھی تھی جست ایسی تھی

صدائے آفریں اٹھی تھی جست ایسی تھی خبر نہ تھی کہ مقدر شکست ایسی تھی نظر ہٹا نہ سکا رائے کس طرح لیتا وہ سب کو دیکھ رہا تھا نشست ایسی تھی اسے خیال یہ گزرا کہ گر گئی دیوار دل حزیں کی صدائے شکست ایسی تھی میں تعینات کے الجھاؤ توڑ ہی بیٹھا صدائے دوست صدائے الست ایسی تھی میں اپنے آپ ...

مزید پڑھیے

جس بات کو سن کر تجھے تکلیف ہوئی ہے

جس بات کو سن کر تجھے تکلیف ہوئی ہے دنیا میں اسی بات کی تعریف ہوئی ہے پیغام مسرت پہ خوشی خوب ہے لیکن سنتے ہیں کہ ہم سایے کو تکلیف ہوئی ہے بگڑے ہوئے کچھ حرف ہیں بے معنی سے کچھ لفظ یہ زیست کے اوراق کی تالیف ہوئی ہے روداد میں ایسی تو کوئی بات نہیں تھی مانو کہ نہ مانو کوئی تحریف ہوئی ...

مزید پڑھیے

کس قدر وزن ہے خطاؤں میں

کس قدر وزن ہے خطاؤں میں ذکر رہتا ہے پارساؤں میں واپسی پر اتر گیا چہرہ جا کے بیٹھا تھا ہم‌ نواؤں میں راز کی بات ہے دعا نہ کرو یاد رکھنا ہمیں دعاؤں میں ڈھونڈ شاید ملے پیام ضمیر بوڑھے برگد کی ان چٹانوں میں اپنی تعریف کرنے بیٹھا تھا بات اڑا دی گئی ہواؤں میں چہرے بدلے ہوئے ہیں ...

مزید پڑھیے

بشر کی ذات کو غم سے کہاں مفر ہے میاں

بشر کی ذات کو غم سے کہاں مفر ہے میاں ہزار کہئے کوئی غم نہیں مگر ہے میاں سفر میں زاد سفر ہی تو کام آتا ہے سفر کو سہل نہ جانو سفر سفر ہے میاں ملال کیا کریں دستار کے نہ ہونے کا وبال دوش یہاں تو خود اپنا سر ہے میاں بہ عافیت گزر آئے تھے ہر تلاطم سے مگر کنارے پہ اب ڈوبنے کا ڈر ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 299 سے 4657