بے مثل و بے حساب اجالوں کے بعد بھی
بے مثل و بے حساب اجالوں کے بعد بھی کچھ اور مانگ جان سے پیاروں کے بعد بھی کیا سوچ روشنی سے زیادہ ہے تیز رو ہم بند رہ سکے نہ فصیلوں کے بعد بھی تصویر سے زیادہ تصور کی عمر ہے کچھ خواب زندہ رہتے ہیں آنکھوں کے بعد بھی پھر خوف سے بے فکر ہی کرنا پڑا اسے بدلی نہ میری قوم عذابوں کے بعد ...