شاعری

بے مثل و بے حساب اجالوں کے بعد بھی

بے مثل و بے حساب اجالوں کے بعد بھی کچھ اور مانگ جان سے پیاروں کے بعد بھی کیا سوچ روشنی سے زیادہ ہے تیز رو ہم بند رہ سکے نہ فصیلوں کے بعد بھی تصویر سے زیادہ تصور کی عمر ہے کچھ خواب زندہ رہتے ہیں آنکھوں کے بعد بھی پھر خوف سے بے فکر ہی کرنا پڑا اسے بدلی نہ میری قوم عذابوں کے بعد ...

مزید پڑھیے

جو تجھے اور مجھے ایک کر سکا نہیں

جو تجھے اور مجھے ایک کر سکا نہیں وہ ترا خدا نہیں وہ مرا خدا نہیں زندگی ملی کبھی تو گلہ کریں گے پر زندگی ملی نہیں تو گلہ کیا نہیں میں جو اس دیار میں اب تلک نہیں مرا کیا مرا کوئی عزیز اب یہاں بچا نہیں جس کے احترام میں سر کٹا دیا گیا اس کو تو خبر نہیں اس کو تو پتا نہیں خود سے دور ہو ...

مزید پڑھیے

یہ مانتا ہوں کہ سو بار جھوٹ کہتا ہے

یہ مانتا ہوں کہ سو بار جھوٹ کہتا ہے مگر یہ سچ ہے وہ تم سے ہی پیار کرتا ہے ارے وہ ہوگا منافق تمہارا یار نہیں ہر ایک بات پہ جو ہاں میں ہاں ملاتا ہے کہوں میں اچھا برا یا کروں کوئی بکواس مرا خدا ہی تو ہر بات میری سنتا ہے معاشرے کا بڑا ایک المیہ یہ ہے یہاں پہ جرم زیادہ فروغ پاتا ...

مزید پڑھیے

ڈر رہا ہوں نہ خوف کھا رہا ہوں

ڈر رہا ہوں نہ خوف کھا رہا ہوں بے سبب بات کو بڑھا رہا ہوں اس کی خوشبو پہن رہا ہوں کبھی کبھی آواز میں نہا رہا ہوں پھول تک اس کو دے نہیں سکتا پھر ہرے باغ کیوں دکھا رہا ہوں کر رہا ہوں میں بات ایک سے اور دوسرے شخص کو سنا رہا ہوں بے تحاشا دکھائی دے وہ مجھے ہر طرف آئنے لگا رہا ہوں میں ...

مزید پڑھیے

ہوا کم نہ جس کا اثر زندگی بھر

ہوا کم نہ جس کا اثر زندگی بھر نظر میں رہی وہ نظر زندگی بھر ہم ان کے تصور میں کھوئے ہوئے ہیں نہ ہو ان کو شاید خبر زندگی بھر ہمارے تصور میں تھا جس کا نقشا نہ پایا ہمیں وہ ہی گھر زندگی بھر نہ آئے گا وہ لوٹ کر یہ خبر تھی رہا منتظر میں مگر زندگی بھر کہیں بے ہنر ہم اسے کس ہنر سے نہ آیا ...

مزید پڑھیے

گفتار بدل کر کبھی کردار بدل کر

گفتار بدل کر کبھی کردار بدل کر تقدیر میں یوں جیت لکھی ہار بدل کر اب میرؔ کے غالبؔ کے وہ اسلوب کہاں ہیں اشعار کہے جاتے ہیں معیار بدل کر سر دردی کے عنوان سبھی میں ہیں بہ کثرت ہم نے تو یہی پایا ہے اخبار بدل کر ہوتی ہے ہر اک جنگ میں کیوں ہار ہماری دیکھو تو کبھی قافلہ سالار بدل ...

مزید پڑھیے

ہماری آنکھ سے اکثر نظارے چھوٹ جاتے ہیں

ہماری آنکھ سے اکثر نظارے چھوٹ جاتے ہیں سفر میں ہم سفر بن کر ہمارے چھوٹ جاتے ہمارے ہاتھ سے خوشیاں نکل جائیں تو غم کیسا فلک کے ہاتھ سے بھی تو ستارے چھوٹ جاتے ہیں کبھی کشتی مری خود چھوڑ دیتی ہے کناروں کو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کنارے چھوٹ جاتے ہیں ندامت کے کبھی دو چار آنسو بھی ...

مزید پڑھیے

فکر و تخیلات کے پر زندہ ہیں ابھی

فکر و تخیلات کے پر زندہ ہیں ابھی بوڑھے ضرور ہیں یہ مگر زندہ ہیں ابھی سائے میں زندگی کو بتانے کے واسطے راہ حیات کے وہ شجر زندہ ہیں ابھی اس کو لگا کی چاہنے والے نہیں میرے لیکن اسے ملی یہ خبر زندہ ہیں ابھی مایوس و نا امید نہ ہوں گے کبھی بھی ہم امید کے یہ شمس و قمر زندہ ہیں ابھی ہم ...

مزید پڑھیے

دیکھ پگلی نہ دل لگا مرے ساتھ

دیکھ پگلی نہ دل لگا مرے ساتھ اتنی اچھی نہیں وفا مرے ساتھ یار جو مجھ پہ جان وارتے تھے کیا کوئی واقعی مرا مرے ساتھ میں تو کمزور تھا میں کیا لڑتا وہ مگر پھر بھی لڑ پڑا مرے ساتھ میں پریشان تو نہیں مرے دوست اتنی ہمدردی مت جتا مرے ساتھ اے خدا تو تو جانتا ہے مجھے تو نے اچھا نہیں کیا ...

مزید پڑھیے

سو جاؤں پر کیسے سویا جا سکتا ہے

سو جاؤں پر کیسے سویا جا سکتا ہے اس کو بند آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے پانی پر تصویر بنائی جا سکتی ہے اس کا نام ہوا پر لکھا جا سکتا ہے اب میں جتنی چاہوں خاک اڑا سکتا ہوں جتنا چاہوں اتنا رویا جا سکتا ہے سادہ دل دیہاتی تھا سو مان گیا میں حالانکہ اس گھر تک رکشا جا سکتا ہے کیا ہم پہلے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 294 سے 4657