بیاں اے ہم نشیں غم کی حکایت اور ہو جاتی
بیاں اے ہم نشیں غم کی حکایت اور ہو جاتی ذرا ہم خستہ حالوں کی طبیعت اور ہو جاتی نصیحت حضرت واعظ کی سنتے بھی تو کیا ہوتا یہی ہوتا کہ ہم کو ان سے وحشت اور ہو جاتی بہت اچھا ہوا آنسو نہ نکلے میری آنکھوں سے بپا محفل میں اک تازہ قیامت اور ہو جاتی تڑپ کر دل نے منزل پر مجھے چونکا دیا ...