شاعری

بیاں اے ہم نشیں غم کی حکایت اور ہو جاتی

بیاں اے ہم نشیں غم کی حکایت اور ہو جاتی ذرا ہم خستہ حالوں کی طبیعت اور ہو جاتی نصیحت حضرت واعظ کی سنتے بھی تو کیا ہوتا یہی ہوتا کہ ہم کو ان سے وحشت اور ہو جاتی بہت اچھا ہوا آنسو نہ نکلے میری آنکھوں سے بپا محفل میں اک تازہ قیامت اور ہو جاتی تڑپ کر دل نے منزل پر مجھے چونکا دیا ...

مزید پڑھیے

کبھی سسکی کبھی آوازہ سفر جاری ہے

کبھی سسکی کبھی آوازہ سفر جاری ہے کسی دیوانے کا دیوانہ سفر جاری ہے تھک کے بیٹھیں تو کہیں ہاتھ وہ چھوڑوا ہی نہ لے بس اسی خوف میں ہی اندھا سفر جاری ہے یہ جو آگے کی طرف پاؤں نہیں اٹھتے مرے اپنے اندر کی طرف میرا سفر جاری ہے کتنی ہی منزلیں پا کر بھی تسلی نہ ہوئی میرے بل بوتے پہ قسمت ...

مزید پڑھیے

وہ میرا یار ہے پر میری مانتا نہیں ہے

وہ میرا یار ہے پر میری مانتا نہیں ہے وہ درد دیتا ہے پر درد بانٹتا نہیں ہے یا اس کو میری زباں کی سمجھ نہیں آتی یا جان بوجھ کے اس سمت دیکھتا نہیں ہے تو اس کے پاس کبھی جا کے تھوڑا وقت گزار کہ جتنا تو نے سنا اتنا وہ برا نہیں ہے وہ بولی تیرے لئے خاندان کیوں چھوڑوں وقارؔ تجھ سے مرا ...

مزید پڑھیے

جہاں پہ علم کی کوئی قدر اور حوالہ نہیں

جہاں پہ علم کی کوئی قدر اور حوالہ نہیں میں اس زمین پہ پاؤں بھی رکھنے والا نہیں میں اس درخت کے اندر تھا جس کو کاٹا گیا کسی نے بھی تو وہاں سے مجھے نکالا نہیں وہ اپنے عہد سے آگے کی باتیں کرنے لگا بہکتے شخص کو دنیا نے پھر سنبھالا نہیں ہر ایک چوٹ پہ کچھ اور جڑنے لگتا تھا سو اس نے مجھ ...

مزید پڑھیے

سدرۃ الوصل کے سائے کا طلب گار ہوں میں

سدرۃ الوصل کے سائے کا طلب گار ہوں میں تپش ہجر میں برسوں سے گرفتار ہوں میں جا کسی اور کو جا دھمکیاں دے مارنے کی جب سے میں پیدا ہوا تب سے سر دار ہوں میں میرا پیغام بھلا تیغ کہاں روکے گی حاکم وقت کو بتلاؤ قلمکار ہوں میں میں نے تو رب کو بھی پوجا ہے اور اس یار کو بھی واعظا تو ہی بتا کس ...

مزید پڑھیے

خطا قبول نہیں ہے تو خود خطا کر دیکھ

خطا قبول نہیں ہے تو خود خطا کر دیکھ یا ایک بار برابر میں میرے آ کر دیکھ یہ میرا صبر ہے یہ مجھ پسے ہوئے کا صبر خدائے قہر تو آ قہر آزما کر دیکھ غرور وار دیا میں نے فی‌ سبیل العشق اے عشق تو بھی تو اب تھوڑا حوصلہ کر دیکھ میں دل کا اچھا ہوں لیکن ذرا سا ہوں گستاخ تو ایک بار مجھے سینے سے ...

مزید پڑھیے

زیادہ سوچنے والے تجھے پتہ نہیں ہے

زیادہ سوچنے والے تجھے پتہ نہیں ہے جو تجھ کو سینے لگاتا ہے وہ ترا نہیں ہے وہاں پہ ہم بھی ہیں موجود ڈھونڈنے والی سو تیرے دل میں اکیلا ترا خدا نہیں ہے تمہیں پتہ ہے کہ تم کس لئے ہوئے ہو ذلیل تمہارے پاس کوئی اپنا نظریہ نہیں ہے ہیں بد دماغ مری طرح میرے سارے دوست کوئی بھی دنیا کے بارے ...

مزید پڑھیے

وہ ذمہ داری کتنی خوشی سے نبھائی تھی

وہ ذمہ داری کتنی خوشی سے نبھائی تھی اس کو سرائی کی زباں میں نے سکھائی تھی میں نے جہاں پہ پیاس کو سیراب کر دیا دریا کی ایک لہر مرے ہاتھ آئی تھی جنگ عرب میں چھوڑ گئے جب حمایتی کوفہ کے اک جواں نے مری جاں بچائی تھی عورت سے بحث کرنا سمجھتا تھا بس ہتک اور نظریاتی لڑکی بھی دل میں بسائی ...

مزید پڑھیے

من کی مے ہو تو پیالے نہیں دیکھے جاتے

من کی مے ہو تو پیالے نہیں دیکھے جاتے عشق ہو جائے تو چہرے نہیں دیکھے جاتے میں بگڑتے ہوئے بچوں کو بھی کب ڈانٹتا ہوں مجھ سے روتے ہوئے بچے نہیں دیکھے جاتے حملہ آور کو میں اب خود ہی ریاست دے دوں اپنے لوگوں پہ یہ حملے نہیں دیکھے جاتے تیرنا آتا ہے تو چھوڑ مجھے تو تو نکل موقع ایسا ہو تو ...

مزید پڑھیے

زخم کھاتے ہیں جی جلاتے ہیں

زخم کھاتے ہیں جی جلاتے ہیں ہم کہاں ایسے باز آتے ہیں زندگی روز گھٹتی جاتی ہے مسئلے روز بڑھتے جاتے ہیں اب کہاں بھوت اور بلائیں رہیں آدمی آدمی کو کھاتے ہیں ایک وہ ہم سے دور رہ کے بھی خوش ایک ہم اپنا دل جلاتے ہیں خاک سے خاک بھی نہیں ملتی روز ہم خاک چھان آتے ہیں موسم نارسائی آیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 293 سے 4657