شاعری

آوازۂ خیال کہیں گونجتا ہوا

آوازۂ خیال کہیں گونجتا ہوا اور اس پہ سارا صحن سخن جاگتا ہوا دست دعا بلند ہوا تھا یہیں کہیں اپنے لیے خدا سے تجھے مانگتا ہوا آخر میں تھک کے بیٹھ گیا خشک گھاس پر پھولوں کے درمیان تجھے ڈھونڈھتا ہوا حیرت ہماری آنکھ کو للکارتی ہوئی منظر درون خواب کوئی دوڑتا ہوا لوگوں کے ساتھ صف ...

مزید پڑھیے

بعض اوقات فراغت میں اک ایسا لمحہ آتا ہے

بعض اوقات فراغت میں اک ایسا لمحہ آتا ہے جس میں ہم ایسوں کو اچھا خاصا رونا آتا ہے سب اس شخص سے مل کر بالکل تازہ دم ہو جاتے ہیں پھر اس دن تصویر میں سب کا چہرہ اچھا آتا ہے باغ سے پھول چرانے والی لڑکی کو یہ کیا معلوم اس کے قدموں کی ہر چاپ پہ پھول کو کھلنا آتا ہے ہم یہ بات بڑے بوڑھوں ...

مزید پڑھیے

اچھا لگ جائے کیا برا لگ جائے

اچھا لگ جائے کیا برا لگ جائے اس کی قربت میں خوف سا لگ جائے بس وہ اک سرسری نظر ڈالے اور بیمار کو شفا لگ جائے اس کا انکار ایسے لگتا ہے جیسے پاؤں میں کانٹا لگ جائے دھند میں ہاتھ چھوڑنے والے تجھ کو موسم کی بد دعا لگ جائے کیسے اس کا وجود ثابت ہو ملحدوں کو اگر خدا لگ جائے روز اک باغ ...

مزید پڑھیے

اس قدر افسردگی محسوس کی

اس قدر افسردگی محسوس کی میں نے جب اس کی کمی محسوس کی رات میں سویا تھا دریا کے قریب خواب میں اک جل پری محسوس کی اس کے آنے کا یقیں بڑھنے لگا فرش دل پر گھاس اگی محسوس کی آج پھر وہ در کھلا تھا دھیان میں اور اک دیوار سی محسوس کی وقت کا کرنے لگے ہم احترام ہر محبت آخری محسوس کی موت جس ...

مزید پڑھیے

یہ تم نے پاؤں کیا رکھا ہوا تھا

یہ تم نے پاؤں کیا رکھا ہوا تھا زمیں نے حوصلہ رکھا ہوا تھا پرندوں سے ہماری دوستی تھی شجر سے واسطہ رکھا ہوا تھا تبھی ہم جی رہے تھے خوش دلی سے کہ تم نے رابطہ رکھا ہوا تھا بظاہر لگ رہی تھی اینٹ لیکن سڑک پر حادثہ رکھا ہوا تھا کسی نے گھر بڑے رکھے ہوئے تھے کسی نے دل بڑا رکھا ہوا ...

مزید پڑھیے

نہیں کہ خواب پریشان کی تسلی ہوئی

نہیں کہ خواب پریشان کی تسلی ہوئی در و دوار سے انسان کی تسلی ہوئی تمام نام ہی ناموں سے ملتے جلتے تھے تمہارے نام سے مجھ کان کی تسلی ہوئی اگرچہ کمروں میں اے سی لگے ہوئے تھے وہاں مگر جو پیڑ سے مہمان کی تسلی ہوئی یہ کب سے میز پہ خالی دھرا ہوا تھا وسیمؔ پھر ایک پھول سے گلدان کی تسلی ...

مزید پڑھیے

بھوکے جسموں کی خواہشوں کے لیے

بھوکے جسموں کی خواہشوں کے لیے ہم ملے تھے ضرورتوں کے لیے جھانک لینا برا نہیں ہوتا اچھا ہوتا ہے کھڑکیوں کے لیے چار حصوں میں بٹ کے رہ جانا کتنا مشکل ہے آنگنوں کے لیے میری ہر نظم لڑکیوں پہ نثار میرا ہر شعر عورتوں کے لیے بھیگ جانا مجھے بھی آتا ہے ایک اعلان بارشوں کے لیے دھوبیوں ...

مزید پڑھیے

ابھی ابھی جو فلک پار سے گزارے گئے

ابھی ابھی جو فلک پار سے گزارے گئے تمہاری آنکھ سے ایسے کئی ستارے گئے تمہارے ہونٹ سے نکلے ہر ایک لفظ کی خیر کہ جیسے ان پہ گلابوں کے پھول وارے گئے کسی نے نیند میں آ کر نہیں چھوا ہم کو یہ بال خواب میں رہ کر نہیں سنوارے گئے پہل پہل تو وہ ہونٹوں سے دیکھے جاتے رہے پھر اس کے بعد مری آنکھ ...

مزید پڑھیے

اس کی تصویر کیا لگی ہوئی ہے

اس کی تصویر کیا لگی ہوئی ہے پورے کمرے میں روشنی ہوئی ہے کچھ بھی ترتیب میں نہیں تھا یہاں اس کے آنے سے بہتری ہوئی ہے دل کسی اور جا اڑا ہوا ہے روح کسی اور میں پھنسی ہوئی ہے کیسے کہہ دوں میں حال دل اس سے وہ مرے سامنے بڑی ہوئی ہے جیت جاتی ہے مجھ سے باتوں میں بڑے اسکول کی پڑھی ہوئی ...

مزید پڑھیے

تمناؤں میں الجھے رہ گئے ہیں

تمناؤں میں الجھے رہ گئے ہیں ہمارے بچے بوڑھے رہ گئے ہیں وہ آنکھیں کتنا آگے جا چکی ہیں سمندر کتنا پیچھے رہ گئے ہیں ابھی تنہا وہ گزری ہے یہاں سے ہزاروں دل دھڑکتے رہ گئے ہیں جنہیں بانہوں میں بھر کر سو رہی ہو بہت اچھے وہ تکیے رہ گئے ہیں بظاہر اک نیا پن آ چکا ہے مگر یہ دل پرانے رہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 295 سے 4657