شاعری

جیسے کسی کو خواب میں میں ڈھونڈھتا رہا

جیسے کسی کو خواب میں میں ڈھونڈھتا رہا دلدل میں دھنس گیا تھا مگر بھاگتا رہا بے چین رات کروٹیں لیتی تھیں بار بار لگتا ہے میرے ساتھ خدا جاگتا رہا اپنی اذاں تو کوئی مؤذن نہ سن سکا کانوں پہ ہاتھ رکھے ہوئے بولتا رہا ساعت دعا کی آئی تو حسب نصیب میں خالی ہتھیلیوں کو عبث گھورتا رہا اس ...

مزید پڑھیے

کبھی بہار نہ آئی بہار کی صورت

کبھی بہار نہ آئی بہار کی صورت بدل گئی چمن روزگار کی صورت ہوائے لطف و کرم کے فقط سہارے پر پڑے ہیں راہ میں گرد و غبار کی صورت وفا کی شکل نہ دیکھی تمہارے وعدوں پر یہی زمانے میں ہے اعتبار کی صورت پس فنا مری قسمت کھلی وہ روتے ہیں خود اپنے گھر میں بنا کر مزار کی صورت بگولہ دیکھ کے ...

مزید پڑھیے

تندرستی دی خدا نے تو نقاہت نہ گئی

تندرستی دی خدا نے تو نقاہت نہ گئی یعنی توبہ سے بھی عصیاں کی ندامت نہ گئی شیخ جی محفل رنداں سے یہ کہتے نکلے شکر صد شکر کہ بازار میں عزت نہ گئی نام باقی ہے زمانہ میں تو بھر پایا گئے مردان خدا خلق سے شہرت نہ گئی کس کا جلوہ نظر آیا تھا اسے روز ازل آج تک نرگس بیدار کی حیرت نہ گئی مر ...

مزید پڑھیے

ہو کاش یہ شعور کہ ہیں مہماں کہیں

ہو کاش یہ شعور کہ ہیں مہماں کہیں احساس میزباں پہ نہ ہم ہوں گراں کہیں یہ بھی خیال رکھتے ہیں کچھ ذاکران حق کہتی نہ ہو کچھ اور عمل کی زباں کہیں ہم آشنائے ذات وہ بیگانۂ صفات یہ بات دوستی کے ہے شایان شاں کہیں عرفان حق کے حق میں ملی ہے خرد ہمیں دولت یہ بے پناہ نہ ہو رائیگاں کہیں چشم ...

مزید پڑھیے

شوق کی کیا ہے ادا دیکھ لے پروانے میں

شوق کی کیا ہے ادا دیکھ لے پروانے میں جس کو تاخیر گوارا نہیں مٹ جانے میں رخ پہ وحشت نمی آنکھوں میں لبوں پر آہیں کس کے غم سے مچی ہلچل ہے یہ دیوانے میں وہ نظر آئیں تو پھر کون کسی کو دیکھے امتحاں تو ہے وفا کا نہ نظر آنے میں وجہ تسکیں ہے اگر کچھ تو ہے خوشنودی تیری کیا کشش اہل محبت کو ...

مزید پڑھیے

کیوں نہ اے دل جفا کرے کوئی

کیوں نہ اے دل جفا کرے کوئی رسم الفت ہے کیا کرے کوئی لاکھ نالہ کیا کرے کوئی نہیں ممکن رہا کرے کوئی جب نہ باقی ہو قوت پرواز کیا ستم ہے رہا کرے کوئی مرض عشق کا علاج نہیں کیا دل مبتلا کرے کوئی دیکھ لے تجھ کو پھر کہاں ممکن خواہش ما سوا کرے کوئی ضبط غم کا ہمیں بھی دعویٰ ہے ہے جو ظالم ...

مزید پڑھیے

نہ ہو تو جس میں وہ دل بھی ہے کیا دل

نہ ہو تو جس میں وہ دل بھی ہے کیا دل نکما دل برا دل بد نما دل بتوں کو دے دیا نام خدا دل سخاؔ میری بھی کیا ہمت ہے کیا دل اٹھے آغوش سے جب درد اٹھا ہلے پہلو سے جب وہ ہل گیا دل ابھی کمسن ہیں رسوائی کا ڈر ہے نہیں لیتے کسی بدنام کا دل سنگھا کر نکہت زلف معمبر اڑا کر لے گئی باد صبا دل پھرے ...

مزید پڑھیے

ستم کرنا کرم کرنا وفا کرنا جفا کرنا

ستم کرنا کرم کرنا وفا کرنا جفا کرنا مگر جو عہد کر لینا وہ آخر تک وفا کرنا کیا خلوت میں مجھ کو قتل اور محفل میں روتے ہو قیامت ڈھا کے اچھا یاد ہے محشر بپا کرنا بتا اے حسن کب تک عشق کی تقدیر میں آخر بمنت دل دیا کرنا بہ حسرت منہ تکا کرنا نہ دل واپس نہ دل داری یہ کیا شیوہ ہے تم کو تو نہ ...

مزید پڑھیے

میری نگہ میں یار میں اس کی نگاہ میں

میری نگہ میں یار میں اس کی نگاہ میں ذرہ میں ماہتاب ہے ذرہ ہے ماہ میں دل میں ہے دود آہ تو دل دود آہ میں ابر سیاہ گھر میں گھر ابر سیاہ میں ایسا کیا ہے فوج حوادث کا سامنا حیرت میں ہے سپاہ تو حیرت سپاہ میں پھیلی ہوئی ہے زلف کہ چھائی ہوئی گھٹا ابر سیاہ تم میں تم ابر سیاہ میں غم میں ...

مزید پڑھیے

مری جاں سرسری ملنے سے کیا معلوم ہوتا ہے

مری جاں سرسری ملنے سے کیا معلوم ہوتا ہے پرکھنے سے بشر کھوٹا کھرا معلوم ہوتا ہے تمہارے دل میں اور میرا تصور ہو نہیں سکتا تمہارے دل میں کوئی دوسرا معلوم ہوتا ہے ترے قدموں سے یہ ویرانہ جنت ہو گیا گویا مجھے دنیا سے اپنا گھر جدا معلوم ہوتا ہے مجھے تم بے وفا کہتے ہو اچھا بے وفا ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 29 سے 4657