نہ دیکھیں کمتری اب کم تروں کی
نہ دیکھیں کمتری اب کم تروں کی اسی میں بہتری ہے بہتروں کی کرو تم لاکھ آرائش گھروں کی ضرورت کم نہ ہوگی مقبروں کی یہاں تھک جائے نہ نیزہ تمہارا مری بستی ہے بستی خود سروں کی سیاست نے پڑھا رہزن کا کلمہ بڑی ذلت ہوئی ہے رہبروں کی چمن کو یہ نیا موسم مبارک اڑے گی فاختہ اب بے پروں ...