یار اٹھ گئے دنیا سے اغیار کی باری ہے
یار اٹھ گئے دنیا سے اغیار کی باری ہے گل سیر چمن کر گئے اب خار کی باری ہے زاہد نے عبادت چھوڑ اس زلف سے الجھا ہے تسبیح کی شیخی گئی زنار کی باری ہے اس کاکل مشکیں کی بو ہوئی ہے پریشاں آ سب شہر ختن لٹ گئے تاتار کی باری ہے گلشن میں خراماں ہو اب برقعہ اٹھایا ہے سب گر گیا سروستاں گل زار ...