شاعری

یار اٹھ گئے دنیا سے اغیار کی باری ہے

یار اٹھ گئے دنیا سے اغیار کی باری ہے گل سیر چمن کر گئے اب خار کی باری ہے زاہد نے عبادت چھوڑ اس زلف سے الجھا ہے تسبیح کی شیخی گئی زنار کی باری ہے اس کاکل مشکیں کی بو ہوئی ہے پریشاں آ سب شہر ختن لٹ گئے تاتار کی باری ہے گلشن میں خراماں ہو اب برقعہ اٹھایا ہے سب گر گیا سروستاں گل زار ...

مزید پڑھیے

خدا ہی پہنچے فریادوں کو ہم سے بے نصیبوں کے

خدا ہی پہنچے فریادوں کو ہم سے بے نصیبوں کے ہمارے دل کباب اور تو پئے پیالے رقیبوں کے خزاں میں برگ گل اور خار و خس نہیں صحن گلشن میں پڑے ہیں لخت دل اور ٹوٹے نالے عندلیبوں کے بہار آئی دوانو سنتے ہو بلبل کی فریادیں یہ آوازے ہیں فوج موسم گل کے نقیبوں کے الٰہی دے نگاہ لطف خوش چشموں ...

مزید پڑھیے

پھونک دے ہے منہ ترا ہر صاف دل کے تن میں آگ

پھونک دے ہے منہ ترا ہر صاف دل کے تن میں آگ سامنے خورشید کے لگتی ہے جو درپن میں آگ تجھ سے اے بلبل زیادہ گل میں ہے تاثیر عشق دل میں خوں لب پر ہنسی ہے اس کے پیراہن میں آگ اہل زر ساز رعونت سے ہوویں گے دوزخی ڈالتے ہیں شمع کی اول رگ گردن میں آگ کوہ کن لالہ سے خوں تیرا ہے جوشاں بعد سال بے ...

مزید پڑھیے

ننگ نہیں مجھ کو تڑپنے سے سنبھل جانے کا

ننگ نہیں مجھ کو تڑپنے سے سنبھل جانے کا ڈر ہے اس خنجر مژگاں کے پھسل جانے کا نبض زنجیر کے ہلنے سے چھٹے ہے عاشق بو الہوس کہوے ہوا شوق نکل جانے کا گرچہ وہ رشک چمن مجھ سے ہے باغی لیکن آتش گل سے ہے خوف اس کے کمہل جانے کا تلخ لگتا ہے اسے شہر کی بستی کا سواد ذوق ہے جس کو بیاباں کے نکل ...

مزید پڑھیے

مجھ قبر سے یار کیونکے جاوے

مجھ قبر سے یار کیونکے جاوے ہے شمع مزار کیونکے جاوے رہتا ہے رقیب نت تیرے سنگ چھاتی کا پہاڑ کیونکے جاوے حیراں ہوئے بسکہ منہ تیرا دیکھ گلشن سے بہار کیونکے جاوے ہے ہجر کی رات سنسناتی ناگن سے پھنکار کیونکے جاوے نت ہے مرا کینہ اس کے دل میں پتھر سے شرار کیونکے جاوے کس وجہ اٹھے وہ ...

مزید پڑھیے

ہنسوں جوں گل ترے زخموں سے الفت اس کو کہتے ہیں

ہنسوں جوں گل ترے زخموں سے الفت اس کو کہتے ہیں تو گالی دے دعاؤں میں محبت اس کو کہتے ہیں نہیں غم حشر کا ہر چند آفت اس کو کہتے ہیں پھروں یاروں کا منہ دیکھوں قیامت اس کو کہتے ہیں مرے سیلاب اشکوں میں بہے دنیا، پہ جوں سایا نہ سرکا میں جگہ سے استقامت اس کو کہتے ہیں عطا کر سیم شبنم جوں ...

مزید پڑھیے

نین میں خوں بھر آیا دل میں خار غم چھپا شاید

نین میں خوں بھر آیا دل میں خار غم چھپا شاید ہوا اس دم وہ تیغ ابرو کسی سے آشنا شاید گلے لگتا تھا ہر گرد ہوا اورد سے مجنوں کہ خاک کوچۂ لیلیٰ لے آئی ہو صبا شاید قیامت پا نمک ہے غل دوانوں کا گلستاں میں انہوں کے زخم دل پر شور بلبل جا گرا شاید ہمارے ہاتھ اک مو گئی نئیں اور پیچ کھاتی ...

مزید پڑھیے

بہار آدھی گزر گئی ہائے ہم قیدی ہیں زنداں کے

بہار آدھی گزر گئی ہائے ہم قیدی ہیں زنداں کے گئے کچھ اور کچھ جاتے ہیں دن چاک گریباں کے ہزاروں خوب رو گئے خاک میں گردش سے دوراں کے جھلکتے رنگ میں دیکھو مقیش ریزے افشاں کے گیا تو درد سر پر حسرت زخم دویم رہ گئی وگرنہ ہم تری شمشیر کے مارے ہیں احساں کے مرا لوہو بھی بعد از مرگ قاتل کے ...

مزید پڑھیے

گھر یار کا ہم سے دور پڑا گئی ہم سے راحت ایک طرف

گھر یار کا ہم سے دور پڑا گئی ہم سے راحت ایک طرف دل ایک طرف آہ ایک طرف ملنے کی حسرت ایک طرف ہے موت کا رنگ مرا جیونا جیوں دھندلا چراغ ہوں میں سکرات کی ظلمت ایک طرف ہستی کی تہمت ایک طرف جی آ رہا دیدۂ تر میں مجھے دم لینے کی تاب نہیں ضعف ایک طرف درد ایک طرف اور کاہش طاقت ایک طرف جوں ...

مزید پڑھیے

گر میرے لہو رونے کا باران بنے گا

گر میرے لہو رونے کا باران بنے گا کوچہ ترا رشک چمنستان بنے گا گر اس قد موزوں کا تمنا میں اثر ہے برجستہ مری باتوں کا دیوان بنے گا اس زلف کی گر لیل برات آوے مرے ہات دل کے مرے داغوں کا چراغان بنے گا عزلتؔ تو کر اس زلف پریشاں سے یہ دل جمع زنار کا شیرازۂ قرآن بنے گا

مزید پڑھیے
صفحہ 287 سے 4657