سب کو ہی اس در پر تالا دکھتا تھا
سب کو ہی اس در پر تالا دکھتا تھا مجھ کو کوئی دوڑ کے آتا دکھتا تھا کرتے تھے وہ دعائیں اندھے ہونے کی پیاسوں کو زنداں سے دریا دکھتا تھا وہ تھا ایک کنیز کے کمرے کا درپن اس میں دیکھنے والا روتا دکھتا تھا میں نے ان آنکھوں میں دنیا دیکھی تھی اور دنیا کو جانے کیا کیا دکھتا تھا اڑتا ...