شاعری

سخن میں ڈوب کر افکار کے اندر سے نکلی ہوں

سخن میں ڈوب کر افکار کے اندر سے نکلی ہوں بڑی مشکل سے میں کردار کے اندر سے نکلی ہوں یہ کیسی تان میں بھر کر اتارا خود کو نغمے میں ڈھلی سر میں نہ میں جھنکار کے اندر سے نکلی ہوں مری مرضی بھی شامل جب ہوئی ہے اس کی مرضی میں میں ضد کو توڑ کر انکار کے اندر سے نکلی ہوں کہیں بنیاد میں شامل ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈھتا حق کو در بدر ہے تو

ڈھونڈھتا حق کو در بدر ہے تو وائے اپنے سے بے خبر ہے تو شان حق آشکار ہے تن سے موجد‌ کلّ خیر و شر ہے تو ایک میں کیا وجود جملہ ظہور کل میں خود آپ با اثر ہے تو قدرت کاملہ کو غور تو کر بحر یکتائی کا گہر ہے تو میٹ اپنی خودی خدا کو پا نفع حاصل ہو کیا اگر ہے تو مقتدر آپ ہر سبب کا ہے اس لئے ...

مزید پڑھیے

عیاں ہو آپ بیگانہ بنایا

عیاں ہو آپ بیگانہ بنایا وجود خاک کا شانہ بنایا تو ہے الفاظ سے ماہر اے واعظ مجھے بے‌ کیف و کم معنیٰ بنایا کیا اظہار جب میں راز حق کو تو عالم مجھ کو رندانہ بنایا ہنسی سے میری اس نے ٹال دی بات میں تھا ہوشیار دیوانہ بنایا مجھے ساقی نے بے منت کے دی مے خمار عشق مردانہ بنایا پکارا ...

مزید پڑھیے

یاد خدا سے آیا نہ ایماں کسی طرح

یاد خدا سے آیا نہ ایماں کسی طرح کافر بنے نہ ہم نہ مسلماں کسی طرح کرتے ہو وعدہ آنے کا ہے آنکھ منتظر کب تک گزارے دن یہ ہے مہماں کسی طرح آزاد عشق یار نے ہم کو بنا دیا مال و متاع کا ہوں نہ میں خواہاں کسی طرح پیتے رہو شراب جہاں تک کہ ہو سکے شاغل نہ چھوٹے ساقی کا داماں کسی طرح آ جاویں ...

مزید پڑھیے

جہاں بات وحدت کی گہری رہے گی

جہاں بات وحدت کی گہری رہے گی وہاں فکر اپنی نہ تیری رہے گی لجاجت امیروں سے یک دم اٹھا دے قناعت سے اپنی فقیری رہے گی نہ جینے کی خواہش نہ مرنے کا غم ہے جو حالت ہے اپنی وہ ٹھہری رہے گی مجلہ ہوا جب سے دل ہے ہمارا نہ مرقد میں اپنے اندھیری رہے گی گھمنڈ ہر طرح کرنا زیبا نہیں ہے جوانی ...

مزید پڑھیے

دھواں اڑاتی ہوئی دھیمی دھیمی بارش ہے

دھواں اڑاتی ہوئی دھیمی دھیمی بارش ہے ہوا کی اندھی سواری پہ اندھی بارش ہے ہمارے گاؤں کے رستوں کی کچی مٹی پر پھسل رہے ہیں قدم کتنی گندی بارش ہے ذرا سی کھول کے کھڑکی نظر تو دوڑاؤ دکھائی دیتی نہیں اچھی خاصی بارش ہے نکلتے وقت اٹھائی نہیں گئی چھتری مری سہیلی مجھے کہہ رہی تھی بارش ...

مزید پڑھیے

میرے لفظوں سے چلی بات مرے لفظوں کی (ردیف .. ے)

میرے لفظوں سے چلی بات مرے لفظوں کی طے ہوئی مجھ سے ملاقات مرے لفظوں کی میں نے یہ دل کے خزانے سے چرائے ہوئے ہیں کر نہیں سکتا کوئی بات مرے لفظوں کی شعر در شعر بٹھائے گئے مسند پر شعر یوں سجا دی گئی بارات مرے لفظوں کی اس نے تصویر کو تصویر کیا اور لے لی سیلفی ایک ایک مرے ساتھ مرے ...

مزید پڑھیے

غفلت عجب ہے ہم کو دم جس کا مارتے ہیں

غفلت عجب ہے ہم کو دم جس کا مارتے ہیں موجود ہے نظر میں جس کو پکارتے ہیں ہم آئینہ ہیں حق کے حق آئینہ ہے اپنا مستی میں اپنی ہر دم دم حق کا مارتے ہیں ہم اپنے آپ طالب مطلوب آپ ہم ہیں اس کھیل میں ہمیشہ ہم خود کو ہارتے ہیں جنت کی ہم کو خواہش دوزخ کا ڈر نہیں ہے بے اصل مفت واعظ ہم کو ...

مزید پڑھیے

جو نظر کیا میں صفات میں ہوا مجھ پہ کب یہ عیاں نہیں

جو نظر کیا میں صفات میں ہوا مجھ پہ کب یہ عیاں نہیں مری ذات عین کی عین ہے وہاں دوسری کا نشاں نہیں وہی دو جہاں میں ہے مفتخر جیسے عینیت کی ہوئی خبر وہی حکمراں ہے جہان میں وہاں کفر و دیں کا گماں نہیں رہے غیریت کے حجاب میں جو خدا‌ نما سے نہیں ملے جو خدا کو ان سے طلب کئے رہی بات ان پہ ...

مزید پڑھیے

عجب بھول و حیرت جو مخلوق کو ہے

عجب بھول و حیرت جو مخلوق کو ہے خدا کی طلب شرک کی جستجو ہے شراب محبت میں مخمور ہوں میں پیالہ بھرا ہے ملبب سبو ہے پتہ ایک کا دو میں کیوں کر ملے گا جو کثرت فنا ہو تو خود تو ہی تو ہے نہیں غیر کوئی تشخص کا پردہ من و تو فقط غیر کی گفتگو ہے ہے خود آپ موجود ہر یک صفت سے جدائی نہیں اس میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 261 سے 4657