سخن میں ڈوب کر افکار کے اندر سے نکلی ہوں
سخن میں ڈوب کر افکار کے اندر سے نکلی ہوں بڑی مشکل سے میں کردار کے اندر سے نکلی ہوں یہ کیسی تان میں بھر کر اتارا خود کو نغمے میں ڈھلی سر میں نہ میں جھنکار کے اندر سے نکلی ہوں مری مرضی بھی شامل جب ہوئی ہے اس کی مرضی میں میں ضد کو توڑ کر انکار کے اندر سے نکلی ہوں کہیں بنیاد میں شامل ...