شاعری

کیا ہوا کوئی سوچتا بھی نہیں

کیا ہوا کوئی سوچتا بھی نہیں اور کہنے کو کچھ ہوا بھی نہیں جیسے گم ہو گئی شناخت مری اب کوئی مجھ کو ڈھونڈھتا بھی نہیں جس سے رہنے لگے گلے مجھ کو وہ ابھی مجھ کو جانتا بھی نہیں ایسا خاموش بھی نہیں لگتا اور کچھ منہ سے بولتا بھی نہیں چاہتا ہے جواب بھی سارے اور کچھ مجھ سے پوچھتا بھی ...

مزید پڑھیے

دریا کی روانی وہی دہشت بھی وہی ہے

دریا کی روانی وہی دہشت بھی وہی ہے اور ڈوبتے لمحات کی صورت بھی وہی ہے الفاظ بھی لکھے ہیں وہی نوک قلم نے اوراق پہ پھیلی ہوئی رنگت بھی وہی ہے کیوں اس کا سراپا نہ ہوا نقش بہ دیوار جب میں بھی وہی ہوں مری حیرت بھی وہی ہے کیوں برف سی پڑتی ہے کہیں شہر دروں پر جب مژدۂ خورشید میں حدت بھی ...

مزید پڑھیے

مثال عکس مرے آئنے میں ڈھلتا رہا

مثال عکس مرے آئنے میں ڈھلتا رہا وہ خد و خال بھی اپنے مگر بدلتا رہا میں پتھروں پہ گری اور خود سنبھل بھی گئی وہ خامشی سے مرے ساتھ ساتھ چلتا رہا اجالا ہوتے ہی کیسے اسے بجھاؤں گی اگر چراغ مرا تا بہ صبح جلتا رہا میں اس کے معنی و مقصد کے سنگ چنتی رہی وہ ایک حرف جو احساس کو کچلتا ...

مزید پڑھیے

قیاس و یاس کی حد سے نکل کر

قیاس و یاس کی حد سے نکل کر چلی جاؤں کہیں چہرہ بدل کر اڑے گی راکھ پھر میری ہوا میں سبک رفتار ہو جاؤں گی جل کر میں سورج کے تعاقب میں رہوں گی طلوع صبح ہو جاؤں گی ڈھل کر طلسم مہر و مہ کو توڑ ڈالے زمیں اپنی حرارت سے پگھل کر ابھی پہلا قدم طے کر رہی ہوں دوبارہ گر پڑی تھی میں سنبھل ...

مزید پڑھیے

یہ دنیا دور تک کا سلسلہ نئیں

یہ دنیا دور تک کا سلسلہ نئیں ہمیں اس کے لئے کچھ سوچنا نئیں یہ پتلا اس قدر مغرور کیوں ہے تو کیا یہ آسمانوں سے گرا نئیں بہت پہلے یہ دن آنے سے پہلے جو ہونا تھا ابھی تک بھی ہوا نئیں سبھی حق فیصلے کے منتظر ہیں کسی نے خون کا بدلہ لیا نئیں ابھی سورج میں تھوڑی روشنی ہے زمیں کا رنگ بھی ...

مزید پڑھیے

کوئی پوچھے مرے مہتاب سے میرے ستاروں سے

کوئی پوچھے مرے مہتاب سے میرے ستاروں سے چھلکتا کیوں نہیں سیلاب میں پانی کناروں سے مکمل ہو تو سچائی کہاں تقسیم ہوتی ہے یہ کہنا ہے محبت کے وفا کے حصہ داروں سے ٹھہر جائے در و دیوار پر جب تیسرا موسم نہیں کچھ فرق پڑتا پھر خزاؤں سے بہاروں سے بگولے آگ کے رقصاں رہے تا دیر ساحل پر سمندر ...

مزید پڑھیے

کتنا مشکل تھا یہ رستہ کون لکھے گا

کتنا مشکل تھا یہ رستہ کون لکھے گا پوری بات اور پورا قصہ کون لکھے گا دن اور رات کے آدھے آدھے بٹوارے میں کتنا کم تھا کس کا حصہ کون لکھے گا کن ہاتھوں نے کیسے کیسے پتھر کاٹے کیسے دن کا بوجھ اٹھایا کون لکھے گا کتنی دیر کو ہریالی نے آنکھیں کھولیں کتنی دیر کو بادل برسا کون لکھے ...

مزید پڑھیے

تعلق کے بہاؤ کا مقدم استعارہ کس جگہ ہے

تعلق کے بہاؤ کا مقدم استعارہ کس جگہ ہے مرے گہرے سمندر تیری وحشت کا کنارہ کس جگہ ہے بتا اے روز و شب کی بے ثباتی میں توازن رکھنے والے جسے کل ٹوٹنا ہے آج وہ روشن ستارہ کس جگہ ہے بتا سرسبز کھیتوں سے گزرنے والے بے آواز دریا اچانک پیچ کھا کر رخ بدلنے کا اشارہ کس جگہ ہے بشارت جس کے ...

مزید پڑھیے

اتنے آسودہ کنارے نہیں اچھے لگتے

اتنے آسودہ کنارے نہیں اچھے لگتے ایک ہی جیسے نظارے نہیں اچھے لگتے اتنی بے ربط کہانی نہیں اچھی لگتی اور واضح بھی اشارے نہیں اچھے لگتے ذرا دھیمی ہو تو خوشبو بھی بھلی لگتی ہے آنکھ کو رنگ بھی سارے نہیں اچھے لگتے پاس آ جائیں تو بے نوری مقدر ٹھہرے دور بھی اتنے ستارے نہیں اچھے ...

مزید پڑھیے

جاگتے سوتے ہوئے لکھتے ہیں

جاگتے سوتے ہوئے لکھتے ہیں شعر ہم روتے ہوئے لکھتے ہیں جب بھی لکھتے ہیں مکمل خود کو کہیں کم ہوتے ہوئے لکھتے ہیں صبح سے شام تلک بھاگتے ہیں زندگی ڈھوتے ہوئے لکھتے ہیں کبھی اڑتے ہیں ستاروں کی طرف ان میں گم ہوتے ہوئے لکھتے ہیں خود بخود سونا اگلتی ہے زمین ہم تو دکھ بوتے ہوئے لکھتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 246 سے 4657