کچھ بھی نہیں ہے پاس مرے اب سوائے یاد
کچھ بھی نہیں ہے پاس مرے اب سوائے یاد شعلہ سا جل رہا ہے در دل متاع یاد تنہائیوں میں بھی کبھی تنہا نہیں ہوں میں آ بیٹھتی ہے پاس مرے بن بلائے یاد شب بھر میں لطف لیتا رہا ہوں اسی طرح ساری ہی رات چلتی رہی ہے ہوائے یاد ایسے بچھڑ کہ دل میں کوئی بات رہ نہ جائے کیا جانئے کہ پھر کبھی آئے ...