آتے رہتے ہیں فلک سے بھی اشارے کچھ نہ کچھ
آتے رہتے ہیں فلک سے بھی اشارے کچھ نہ کچھ بات کر لیتے ہیں ہم سے چاند تارے کچھ نہ کچھ ایک کافر کی مسیحائی کے دست فیض سے مل رہے ہیں زخم کے دونوں کنارے کچھ نہ کچھ رنگ ہر دیمک زدہ تصویر میں بھرتے رہے اک تسلی کے لیے ہجراں کے مارے کچھ نہ کچھ اک پرانا خط کئی پھولوں کی سوکھی پتیاں اس بیاض ...