مری آنکھوں میں جو تھوڑی سی نمی رہ گئی ہے
مری آنکھوں میں جو تھوڑی سی نمی رہ گئی ہے بس یہی عشق کی سوغات بچی رہ گئی ہے وقت کے ساتھ ہی گل ہو گئے وحشت کے چراغ اک سیاہی ہے جو طاقوں پہ ابھی رہ گئی ہے اور کچھ دیر ٹھہر اے مری بینائی کہ میں دیکھ لوں روح میں جو بخیہ گری رہ گئی ہے آئینو تم ہی کہو کیا ہے مرے ہونٹوں پر لوگ کہتے ہیں کہ ...