شاعری

کہیں یہ لمحۂ موجود واہمہ ہی نہ ہو

کہیں یہ لمحۂ موجود واہمہ ہی نہ ہو جو ہو رہا ہے یہ سب پہلے ہو چکا ہی نہ ہو وہ صدمہ جس کے سبب میں ہوں سر بہ زانو ابھی عجب نہیں مری دانست میں ہوا ہی نہ ہو ترے غیاب میں جو کچھ کیا حکایت میں کہیں وہ گفتہ و نا گفتہ سے سوا ہی نہ ہو کلام کرتی ہوئی لہریں چپ نہ ہوں مرے بعد مرے لیے کہیں پانی ...

مزید پڑھیے

نہ تھیں تو دور کہیں دھیان میں پڑی ہوئی تھیں

نہ تھیں تو دور کہیں دھیان میں پڑی ہوئی تھیں تمام آیتیں امکان میں پڑی ہوئی تھیں کواڑ کھلنے سے پہلے ہی دن نکل آیا بشارتیں ابھی سامان میں پڑی ہوئی تھیں وہیں شکستہ قدمچوں پہ آگ روشن تھی وہیں روایتیں انجان میں پڑی ہوئی تھیں ہم اپنے آپ سے بھی ہم سخن نہ ہوتے تھے کہ ساری مشکلیں آسان ...

مزید پڑھیے

زندگی ہم نے ترے رنگ میں ڈھالی بھی ہے

زندگی ہم نے ترے رنگ میں ڈھالی بھی ہے روش زیست مگر اپنی نرالی بھی ہے کیا گزرتی ہے بھلا طائر جاں پر اے عشق شوق پرواز بھی ہے بے پر و بالی بھی ہے عشق کا کام تو دینا ہے سو جاں دی اے دل ہم نے دنیا سے کوئی چیز بھلا لی بھی ہے ہم اکیلا تجھے اس شہر میں چھوڑ آئے ہیں ہم نے اک بات تو اے دل تری ...

مزید پڑھیے

وصل سے اور ہجر سے ہے تنگ

وصل سے اور ہجر سے ہے تنگ دل نے سیکھے ہیں کچھ عجیب ہی ڈھنگ اب نہ زنجیر ہے نہ زنداں ہے اب نہ دیوار ہے نہ ہاتھ میں سنگ اب نہ دل میں وو یاسمیں رو ہے اب نہ آنکھوں میں وہ مہکتے رنگ اب نہ وہ عشق میں کشاکش ہے اب نہ وہ زندگی میں ہے آہنگ جیتتا جا رہا ہوں عشق کا کھیل ہارتا جا رہا ہوں زیست کی ...

مزید پڑھیے

موجود کچھ نہیں یہاں معدوم کچھ نہیں

موجود کچھ نہیں یہاں معدوم کچھ نہیں یہ زیست ہے تو زیست کا مفہوم کچھ نہیں منظر حجاب اور ہی کچھ منظروں کے ہیں معلوم ہم کو یہ ہے کہ معلوم کچھ نہیں خواب و خیال سمجھیں تو موجود ہے جہاں کچھ بھی سوائے نقطۂ موہوم کچھ نہیں حرف و بیاں نظارے ستارے دل و نظر ہر شے میں انتشار ہے منظوم کچھ ...

مزید پڑھیے

کہاں لے جائیں گے سامان اتنا

کہاں لے جائیں گے سامان اتنا اگر آ جائے ہم کو دھیان اتنا یہ آنکھیں ڈھونڈھتی رہتی ہیں کس کو یہ دل رہتا ہے کیوں حیران اتنا اسے کوئی سمجھ سکتا ہے کیسے بدل جاتا ہو جو ہر آن اتنا جو کرنا تھا وہ میں نے کر لیا ہے مرے جوہر میں تھا امکان اتنا اسے ہم بھول تو سکتے ہیں لیکن نہیں یہ کام کچھ ...

مزید پڑھیے

دل میں کوئی بھی تمنا کیوں ہو

دل میں کوئی بھی تمنا کیوں ہو رات دن اس کا نظارہ کیوں ہو جتنا دیکھا ہے وہ اتنا تو نہیں جتنا سمجھا ہے وہ اتنا کیوں ہو تمہیں ملنا ہی نہیں جب ہم کو دل تری سمت لپکتا کیوں ہو ہاتھ سے ہاتھ نہیں ملتا جب کوئی بھی آپ کے جیسا کیوں ہو مل ہی جائے گا جو ملنا ہوگا درمیاں کوئی وسیلہ کیوں ہو جو ...

مزید پڑھیے

کس شعر میں ثنائے رخ مہ جبیں نہیں

کس شعر میں ثنائے رخ مہ جبیں نہیں ہے آسمان حسن غزل کی زمیں نہیں کیوں کر کہوں کہ تم سا کوئی نازنیں نہیں عاجز کچھ اے حسیں مرا حسن آفریں نہیں اک اک سخن پہ کرتے ہیں سو سو نہیں نہیں کیا دوسرا جہان میں تم سا حسیں نہیں تجھ سا جہاں میں اے یم خوبی حسیں نہیں ہے موج بحر حسن یہ چین جبیں ...

مزید پڑھیے

ایسی تشبیہ فقط حسن کی بدنامی ہے

ایسی تشبیہ فقط حسن کی بدنامی ہے ماہ عارض کو لکھا خامے کی یہ خامی ہے رنگ یہ ان کی صباحت نے عجب دکھلایا سرخ جوڑے پہ گماں ہوتا ہے بادامی ہے کہتے پھرتے ہو برا مجھ کو یہ بات اچھی نہیں میری رسوائی میں صاحب کی بھی بدنامی ہے آپ کی باتوں سے دل پک گیا جب کہتا ہوں میں ہنس کے کہتے ہیں یہ ...

مزید پڑھیے

جفا پسندوں کو سنتے ہیں نا پسند ہوا

جفا پسندوں کو سنتے ہیں نا پسند ہوا اب اور بھی دل مایوس درد مند ہوا مہ دو ہفتہ بنایا ہمیں نے عارض کو ہماری وجہ سے حسن آپ کا دو چند ہوا جدا جدا ہے مذاق اپنا اپنا دنیا میں ہمیں جو درد تو دل درد کو پسند ہوا وہ پھیر پھیر گئے توڑ توڑ کر اکثر یہ دل وہ ہے جو کئی بار درد مند ہوا کوئی ہزار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 141 سے 4657