شاعری

اپنی تشہیر کرے یا مجھے رسوا دیکھے

اپنی تشہیر کرے یا مجھے رسوا دیکھے وہ مرے واسطے اس شہر میں کیا کیا دیکھے لمحۂ رفتہ کو آواز تو دیتی ہوگی آئینہ آئینہ جب کوئی وہ مجھ سا دیکھے شام کی آخری سرحد پہ مری طرح کوئی اپنی بربادی کا خود ہی نہ تماشا دیکھے اپنے بچوں کو دعا دیتا ہوں یہ شام و سحر میری ہی طرح یہ دنیا تمہیں ...

مزید پڑھیے

قربتوں کے یہ سلسلے بھی ہیں

قربتوں کے یہ سلسلے بھی ہیں چشم در چشم رت جگے بھی ہیں جانے والے دنوں کے بارے میں آنے والوں سے پوچھتے بھی ہیں بات کرنے سے پہلے اچھی طرح ہم بہت دیر سوچتے بھی ہیں تری خوش حالیوں کی قامت کو تیرے ماضی سے ناپتے بھی ہیں ڈوبتے چاند کو دریچے میں چشم پر نم سے دیکھتے بھی ہیں مسکرانے کے ...

مزید پڑھیے

دیکھا ہی نہ ہو جس نے کبھی خاک سے آگے

دیکھا ہی نہ ہو جس نے کبھی خاک سے آگے کیا اس کو نظر آئے گا افلاک سے آگے وہ غم بھی اٹھائے ہیں ترے عشق میں اے جاں اٹھتے ہی نہ تھے جو دل صد چاک سے آگے دل موسم ہجراں میں کہیں مر نہ گیا ہو دیکھو تو کبھی دیدۂ نمناک سے آگے اک فصل بہاراں ہے مرے روح و بدن پر اک باغ کھلا ہے تری پوشاک سے ...

مزید پڑھیے

کیوں ہو نہ گر کے کاسۂ تدبیر پاش پاش

کیوں ہو نہ گر کے کاسۂ تدبیر پاش پاش ہے سنگ غم سے شیشۂ تقدیر پاش پاش ہے خون بے گنہ سے جگر ریش تیغ بھی جوہر نہیں یہ ہے تن شمشیر پاش پاش تیر نگہ نے دل مرا غربال کر دیا زخموں سے ہو گیا تن نخچیر پاش پاش تیغ زبان یار سے مجروح ہے جگر ہوتا ہے دل مرا دم تقریر پاش پاش اے تیغ کلک لکھ وہ ...

مزید پڑھیے

فیصلہ کیا ہو جان بسمل کا

فیصلہ کیا ہو جان بسمل کا موت رخ دیکھتی ہے قاتل کا دل لگی ہے سنبھالنا دل کا ناصحا کام ہے یہ مشکل کا موت بھی کانپ کانپ اٹھتی ہے نام سن سن کے میرے قاتل کا مل کے تلووں سے ہنس کے کہتے ہیں تھا زمانہ میں شور اسی دل کا حسرتیں اس پتے پر آتی ہیں داغ دل ہے چراغ منزل کا کیا قرینے سے گل ہیں ...

مزید پڑھیے

کیا ملا قیس کو گرد رہ صحرا ہو کر

کیا ملا قیس کو گرد رہ صحرا ہو کر رہ گیا ہوتا غبار در لیلیٰ ہو کر یاد آتے ہیں چمن میں جو کسی کے عارض گل کھٹکتے ہیں مری آنکھوں میں کانٹا ہو کر پہلے کیا تھا جو کیا کرتے تھے تعریف مری اب ہوا کیا جو برا ہو گیا اچھا ہو کر دل میں رکھ گرد کدورت نہ بہت اے کم بیں کہیں رہ جائے نہ یہ آئنہ ...

مزید پڑھیے

فراق میں خون دل ہیں پیتے شراب ہم لے کے کیا کریں گے

فراق میں خون دل ہیں پیتے شراب ہم لے کے کیا کریں گے ہمارا دل آپ بھن رہا ہے کباب ہم لے کے کیا کریں گے جو ان سے کہتا ہوں یار حاضر ہے یہ ہمارا دل شکستہ تو ہنس کے کہتے ہیں ناز سے وہ جناب ہم لے کے کیا کریں گے نہیں ہے فرصت یہیں کے جھگڑوں سے فکر عقبیٰ کہاں کی واعظ عذاب دنیا ہے ہم کو کیا کم ...

مزید پڑھیے

پیچ دے زلف عنبریں نہ کہیں

پیچ دے زلف عنبریں نہ کہیں خود الجھ جاؤ اے حسیں نہ کہیں کبھی گھبراتے ہیں تو کہتے ہیں کوئی بیتاب ہے کہیں نہ کہیں بہت اصرار وصل پر نہیں خوب منہ سے کہہ دیں وہ پھر نہیں نہ کہیں ذکر جس غمزدے کا ہوتا ہے دل یہ کہتا ہے ہوں ہمیں نہ کہیں سجدے کرتے ہیں لوگ دیر میں بھی واں بھی اے یار ہوں ...

مزید پڑھیے

نہ ہوگا حشر محشر میں بپا کیا

نہ ہوگا حشر محشر میں بپا کیا نہ ہوگا میرا ان کا فیصلہ کیا دغا دے گا مجھے وہ پر جفا کیا نہ آڑے آئے گی میری وفا کیا چمن میں کس لئے گل ہنس رہے ہیں شگوفہ تو نے چھوڑا اے صبا کیا چلو بگڑو نہ مہ کہنے پر اتنا بشر سے ہو نہیں جاتی خطا کیا انہیں ترک تعلق ہے جو منظور مجھے الزام دیتے ہیں وہ ...

مزید پڑھیے

غبار اڑتا رہا کارواں رکا ہی نہیں

غبار اڑتا رہا کارواں رکا ہی نہیں وہ کھو گیا تو مجھے پھر کبھی ملا ہی نہیں گواہ ہیں مرے گھر کے یہ بام و در سارے کہ تیرے بعد یہاں دوسرا رہا ہی نہیں نہ کوئی در نہ دریچہ نہ روزن و دیوار کہاں سے آئے ہوا کوئی راستا ہی نہیں ہزار رنگ بھرے لاکھ خال و خد کھینچے سراپا تیرا مکمل کبھی ہوا ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 142 سے 4657