اپنی تشہیر کرے یا مجھے رسوا دیکھے
اپنی تشہیر کرے یا مجھے رسوا دیکھے وہ مرے واسطے اس شہر میں کیا کیا دیکھے لمحۂ رفتہ کو آواز تو دیتی ہوگی آئینہ آئینہ جب کوئی وہ مجھ سا دیکھے شام کی آخری سرحد پہ مری طرح کوئی اپنی بربادی کا خود ہی نہ تماشا دیکھے اپنے بچوں کو دعا دیتا ہوں یہ شام و سحر میری ہی طرح یہ دنیا تمہیں ...