شاعری

جان بہاراں کب آؤ گے

جان بہاراں کب آؤ گے درد کے درماں کب آؤ گے کب آؤ گے میرے پیا تم حاصل ارماں کب آؤ گے ٹوٹ رہی ہیں میری امیدیں صاحب پیماں کب آؤ گے چوکھٹ سونی سونی سی ہے شام چراغاں کب آؤ گے میری چھت بھی روشن کر دو ماہ درخشاں کب آؤ گے آنکھیں رستہ دیکھ رہی ہیں میرے نگہباں کب آؤ گے کشتی میری ڈوب نہ ...

مزید پڑھیے

رفاقت کی یہ خواہش کہہ رہی ہے

رفاقت کی یہ خواہش کہہ رہی ہے کئی دن سے وہ مجھ میں رہ رہی ہے پکارا ہے کچھ ایسے نام میرا رگوں میں روشنی سی بہہ رہی ہے تعجب ہے کہ میری انگلیوں میں تری ہاتھوں کی خوشبو رہ رہی ہے سمجھ پایا نہیں پر سن رہا ہوں وہ سرگوشی میں کیا کیا کہہ رہی ہے تری خواہش کسی امکاں کی صورت ہمیشہ مجھ میں ...

مزید پڑھیے

دنوں میں دن تھے شبوں میں شبیں پڑی ہوئی تھیں

دنوں میں دن تھے شبوں میں شبیں پڑی ہوئی تھیں سبھی کہانیاں اک طاق میں پڑی ہوئی تھیں اذان گونجی تو محراب میں کوئی بھی نہ تھا بس ایک رحل پہ کچھ آیتیں پڑی ہوئی تھیں سنائی دیتا ہے اب بھی مقدس آگ کے گرد وہ لحن جس میں کئی حیرتیں پڑی ہوئی تھیں مجھے نوازا تو پیشانی پر لکھا اس نے وہ نام جس ...

مزید پڑھیے

سورج نکلنے شام کے ڈھلنے میں آ رہوں

سورج نکلنے شام کے ڈھلنے میں آ رہوں میں کیا عجب رتوں کے بدلنے میں آ رہوں بارش برسنے دھوپ کے کھلنے میں ہوں شریک شاخوں پہ کونپلوں کے نکلنے میں آ رہوں بہنے لگوں کناروں کو چھوتے ہوئے کہیں دریا کے لہر لہر مچلنے میں آ رہوں رک جاؤں ٹہنیوں کو بلا کر ذرا سی دیر پھر سے ہوا چلے تو میں چلنے ...

مزید پڑھیے

سکوت سے بھی سخن کو نکال لاتا ہوا

سکوت سے بھی سخن کو نکال لاتا ہوا یہ میں ہوں لوح شکستہ سے لفظ اٹھاتا ہوا مکاں کی تنگی و تاریکی بیشتر تھی سو میں دیے جلاتا ہوا آئینے بناتا ہوا ترے غیاب کو موجود میں بدلتے ہوئے کبھی میں خود کو ترے نام سے بلاتا ہوا چراغ جلتے ہی اک شہر منکشف ہم پر اور اس کے بعد وہی شہر ڈوب جاتا ...

مزید پڑھیے

میرے گریہ سے نہ آزار اٹھانے سے ہوا

میرے گریہ سے نہ آزار اٹھانے سے ہوا فاصلہ طے نئی دیوار اٹھانے سے ہوا ورنہ یہ قصہ بھلا ختم کہاں ہونا تھا داستاں سے مرا کردار اٹھانے سے ہوا محمل ناز کی تاخیر کا یہ سارا فساد راہ افتادہ کو بیکار اٹھانے سے ہوا شاق گزرا ہے جو احباب کو وہ صدمہ بھی بزم میں مصرع تہہ دار اٹھانے سے ...

مزید پڑھیے

چراغ کشتہ سے قندیل کر رہا ہے مجھے

چراغ کشتہ سے قندیل کر رہا ہے مجھے وہ دست غیب جو تبدیل کر رہا ہے مجھے یہ میرے مٹتے ہوئے لفظ جو دمک اٹھے ہیں ضرور وہ کہیں ترتیل کر رہا ہے مجھے میں جاگتے میں کہیں بن رہا ہوں از سر نو وہ اپنے خواب میں تشکیل کر رہا ہے مجھے حریم ناز اور اک عمر بعد میں لیکن یہ اختصار جو تفصیل کر رہا ہے ...

مزید پڑھیے

آئینے کے آخری اظہار میں

آئینے کے آخری اظہار میں میں بھی ہوں شام ابد آثار میں دیکھتے ہی دیکھتے گم ہو گئی روشنی بڑھتی ہوئی رفتار میں قطرہ قطرہ چھت سے ہی رسنے لگی دھوپ کا رستہ نہ تھا دیوار میں اپنی آنکھیں ہی میں بھول آیا کہیں رات اتنی بھیڑ تھی بازار میں بار بار آتا رہا ہے تیرا نام آئینہ ہوتی ہوئی گفتار ...

مزید پڑھیے

کتنے ہی فیصلے کئے پر کہاں رک سکا ہوں میں

کتنے ہی فیصلے کئے پر کہاں رک سکا ہوں میں آج بھی اپنے وقت پر گھر سے نکل پڑا ہوں میں ابر سے اور دھوپ سے رشتہ ہے ایک سا مرا آئنے اور چراغ کے بیچ کا فاصلہ ہوں میں تجھ کو چھوا تو دیر تک خود کو ہی ڈھونڈتا رہا اتنی سی دیر میں بھلا تجھ سے کہاں ملا ہوں میں خوشبو ترے وجود کی گھیرے ہوئے ہے ...

مزید پڑھیے

جس بھی لفظ پہ انگلیاں رکھ دے ساز کرے

جس بھی لفظ پہ انگلیاں رکھ دے ساز کرے نظم کی مرضی کیسے بھی آغاز کرے کون لگائے قدغن خواب میں اشیا پر آئنہ ہاتھ ملائے عکس آواز کرے جب بچوں کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں مالک ان پھولوں کی عمر دراز کرے سوتے جاگتے کچھ بھی بولتا رہتا ہوں کون بھلا مجھ ایسے کو ہم راز کرے قدم قدم پر ان کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 140 سے 4657