شاعری

نہ ابتدائے جنوں ہے نہ انتہائے جنوں

نہ ابتدائے جنوں ہے نہ انتہائے جنوں بس ایک فتنہ ہے کہیے جسے ادائے جنوں وہ گل کی طرح سے ہنستا ہے میری حالت پر ارادہ اب ہے کوئی اور گل کھلائے جنوں کمال یہ ہے خرد بھی تلاش کرتی ہے برائے سجدۂ تعظیم نقش پائے جنوں یہ اپنی اپنی طبیعت ہے کیا کیا جائے تمہیں رلائے جنوں اور مجھے ہنسائے ...

مزید پڑھیے

ہم سوچ رہے تھے ان کو ابھی وہ پردہ اٹھا کر آ بھی گئے

ہم سوچ رہے تھے ان کو ابھی وہ پردہ اٹھا کر آ بھی گئے وہ پھول محبت کے ہم پر از راہ کرم برسا بھی گئے آئے تھے علاج دل کرنے فطرت کے مطابق کام کیا کچھ اور بڑھایا درد مرا وہ اور مجھے تڑپا بھی گئے امید دلائی ساقی نے آئے گی گھٹا تو دیکھیں گے قسمت نے ہمارا ساتھ دیا بے موسم بادل چھا بھی ...

مزید پڑھیے

جنوں کی راہ میں پہلے در جانانہ آتا ہے

جنوں کی راہ میں پہلے در جانانہ آتا ہے فراغت ہے پھر اس کے بعد ہی ویرانہ آتا ہے یہ دل کی بات ہے اور بات یہ دل ہی سمجھتا ہے ہمارے پاس اکثر چل کے خود مے خانہ آتا ہے کرو ہر گام پر سجدے محبت کا تقاضہ ہے بہت نزدیک ہے اور یار کا کاشانہ آتا ہے ہوئی ہے کارگر ترکیب میرے دل کی خواہش کی مجھے ...

مزید پڑھیے

ہنس دئیے زخم جگر جیسے کہ گل ہائے بہار

ہنس دئیے زخم جگر جیسے کہ گل ہائے بہار مجھ پہ مائل ہے بہت نرگس شہلائے بہار بے خیالی ہے خیال رخ زیبائے بہار بس یہی آرزوئے دل ہے کہ آ جائے بہار مست ان سرخ نظاروں میں نظر آئے بہار آتش سوز محبت سے جو جل جائے بہار مثل مجنوں نظر آیا مجھے سودائے بہار سج کے آئی ہے مرے سامنے لیلائے ...

مزید پڑھیے

کہاں تیور ہیں ان میں اب وہ کل کے

کہاں تیور ہیں ان میں اب وہ کل کے ہوا چلنے لگی ہے رخ بدل کے جدائی کی گھڑی ہے دشمن دل بلا ہے یہ نہیں ٹلتی ہے ٹل کے ادا ان کی مزہ دیتی ہے ہم کو مزہ آتا ہے ان کو دل مسل کے پہیلی بن کے وہ اوجھل ہوا ہے کئے ہیں بند در سب اس نے جل کے وفا کے پھول تب سمجھو کھلیں گے جو آئے گا کوئی کانٹوں پہ چل ...

مزید پڑھیے

شوق اس کا ہم نے وصل میں بیدار کر دیا

شوق اس کا ہم نے وصل میں بیدار کر دیا جینا پھر ہم نے اپنا ہی دشوار کر دیا ساقی نے اپنی کیفیت خاص مجھ کو دی مے سے نہیں اداؤں سے سرشار کر دیا اس کی جھلک بھی پا نہ سکے چھن گیا سکوں دل خون میرا خواہش دیدار کر دیا فارغ کیا جہاں کی تمناؤں سے ہمیں اس کا کرم ہے اپنا طلب گار کر دیا خوں ...

مزید پڑھیے

خوشامد کر کے وہ پہروں کبھی مجھ کو مناتا ہے

خوشامد کر کے وہ پہروں کبھی مجھ کو مناتا ہے اسے میری طرح سے چاہنے کا ڈھنگ آتا ہے جہان حسن کی رعنائیوں میں شوق کا عالم شرارت جب بھی دل کرتا ہے دلبر مسکراتا ہے بصد لطف و کرم لے کر مجھے جاتا ہے دریا تک ڈبو کر مجھ کو خود بھی وہ اسی میں ڈوب جاتا ہے بوقت خاص مجھ کو منکشف کرتا ہے وہ مجھ ...

مزید پڑھیے

لوگ کچھ راہ محبت میں ٹھہر جائیں گے

لوگ کچھ راہ محبت میں ٹھہر جائیں گے ہم کہاں وہ ہیں جو خطرات سے ڈر جائیں گے جانتے ہی نہیں یہ زخم دئے ہیں کس نے لوگ دیتے ہیں تسلی کہ یہ بھر جائیں گے اس نے یہ کہہ کے بندھائی ہے مری ہمت دل آئے ہیں غم کے زمانے یہ گزر جائیں گے دیر سے آئیں گے وہ دل مرا کہتا ہے یہی الٹے منہ پر کئی الزام وہ ...

مزید پڑھیے

بے چین وہ رہتا ہے مرے پاس سے جا کے

بے چین وہ رہتا ہے مرے پاس سے جا کے دیکھا ہے کئی بار مجھے اس نے بھلا کے آنے سے ترے رنگ بدل دے گی تمنا الفاظ بدل جائیں گے اے دوست دعا کے یہ برق یہ گل اور چمکتے ہوئے تارے سب جلوے ہیں یہ آپ کے ہنسنے کی ادا کے میں نے بھی بتایا کہ مرا حوصلہ کیا ہے تیور تو بہت تیز تھے طوفان بلا کے ظاہر ...

مزید پڑھیے

دیکھے جو دل کی شعلہ فشانی کے حوصلے

دیکھے جو دل کی شعلہ فشانی کے حوصلے سہمے ہوئے ہیں اس کی جوانی کے حوصلے دیکھا مجھے تو پھر وہ اچانک کہاں گئے اے تیغ ناز تیری روانی کے حوصلے میں پار کر کے نکلا ہوں طوفان بحر حسن پہلو میں میرے آ گئے پانی کے حوصلے اس کی نظر کا عکس پڑا میری فکر پر اس نے بڑھائے لفظ و معانی کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 108 سے 4657