برسوں ہوئے اس سے نہ کوئی بات ہوئی رات
برسوں ہوئے اس سے نہ کوئی بات ہوئی رات تو نے بھی نہ کی اپنی کوئی جادوگری رات گم ہو گئی امید ملاقات سحر میں یہ تو نے مرے ساتھ عجب چال چلی رات وہ لے گیا ساتھ اپنے اجالے مرے دل کے کاٹے نہ کٹی ہم سے جو تھی درد بھری رات اشکوں سے کہا میں نے جدائی کا فسانہ اس پر یہ کہا اس نے کہ آئے گی نئی ...