شاعری

برسوں ہوئے اس سے نہ کوئی بات ہوئی رات

برسوں ہوئے اس سے نہ کوئی بات ہوئی رات تو نے بھی نہ کی اپنی کوئی جادوگری رات گم ہو گئی امید ملاقات سحر میں یہ تو نے مرے ساتھ عجب چال چلی رات وہ لے گیا ساتھ اپنے اجالے مرے دل کے کاٹے نہ کٹی ہم سے جو تھی درد بھری رات اشکوں سے کہا میں نے جدائی کا فسانہ اس پر یہ کہا اس نے کہ آئے گی نئی ...

مزید پڑھیے

جذبوں سے فروزاں ہیں دہکتے ہوئے رخسار

جذبوں سے فروزاں ہیں دہکتے ہوئے رخسار کیا حشر بداماں ہیں دہکتے ہوئے رخسار روشن ہے اجل اور ابد ان کی ضیا سے یہ رحمت یزداں ہیں دہکتے ہوئے رخسار بڑھنے لگی کچھ اور وہاں آتش جذبات دل میں میرے مہماں ہیں دہکتے ہوئے رخسار کر دی ہے لب و چشم نے تصدیق ہماری حسن رخ جاناں ہیں دہکتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

تیری یاد میں روتے روتے تجھ جیسا ہو جائے گا

تیری یاد میں روتے روتے تجھ جیسا ہو جائے گا ہو سکتا ہے اپنا دل بھی کل پتھر کہلائے گا اور نہیں تو ترک وفا پر یہ بھی تو ہو سکتا ہے کچھ ہم بھی شرمندہ ہوں گے کچھ وہ بھی پچھتائے گا تجھ کو بھلا کر جی سکتے ہیں لیکن اتنا یاد رہے تجھ سا جو بھی مکھڑا ہوگا آنکھوں میں بس جائے گا پیار سے نفرت ...

مزید پڑھیے

کوئی بھی بات نہ تھی واردات سے پہلے

کوئی بھی بات نہ تھی واردات سے پہلے مری ہی ذات تھی اس کائنات سے پہلے کچھ اتنا ظلم ہوا ہے کہ مجھ کو لگتا ہے کوئی بھی رات نہ گزری تھی رات سے پہلے اگر وہ چھوٹ گیا بات یہ نئی تو نہیں ملے تھے ہات بہت اس کے ہات سے پہلے ہوئے نہیں تھے کبھی اتنے آبرو والے کسی کے ساتھ نہ تھے اس کے سات سے ...

مزید پڑھیے

دیکھ کے مجھ کو ہنس دیتا ہے

دیکھ کے مجھ کو ہنس دیتا ہے دشمن بھی کیا خوب ملا ہے شاید اس کو غم کا ڈر ہے جب دیکھو ہنستا رہتا ہے ہم نے تو ڈھالی ہے جنت تم نے بس سپنا دیکھا ہے اس کا نام کسی سے سن کر کتنے زور سے دل دھڑکا ہے آنے والا ہر پل ہم کو پربت سا اونچا لگتا ہے سب کے چہرے زرد سے کیوں ہیں پھولوں کا موسم آیا ...

مزید پڑھیے

تیری آنکھوں پہ گھنے خوابوں کا پہرہ ہوں میں

تیری آنکھوں پہ گھنے خوابوں کا پہرہ ہوں میں اس تعلق سے ہی کس درجہ سنہرا ہوں میں لوگ کیوں گھور کے سچائی مجھے دیکھتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے ترا چہرہ ہوں میں خود کو کھو دو گے مری تہہ تلک آتے آتے لفظ ہوں لفظ سمندر سے بھی گہرا ہوں میں تو ادھر خط مرا پڑھتی ہے تو لگتا ہے مجھے تیری ...

مزید پڑھیے

وہ آج مجھ سے جب ملی تو دھند چھٹ گئی

وہ آج مجھ سے جب ملی تو دھند چھٹ گئی مگر نہ جانے کیا ہوا زمیں ہی پھٹ گئی وہ لمحہ ایک چاند تھا مہکتی رات کا وہ چاند بجھ سکا نہ تھا کہ رات کٹ گئی بیاض درد جب کھلی تو دل ہنسا مگر گزشتہ عہد کی ہوا ورق الٹ گئی ہمارا ایسا دور بھی رہا کہ ہر گلی جدھر سے ہم گزر گئے سمٹ سمٹ گئی تمام خشک جسم ...

مزید پڑھیے

ابھی تک سانس لمحے بن رہی ہے

ابھی تک سانس لمحے بن رہی ہے سمندر سے پرانی دوستی ہے یہ جو آنکھوں میں اک دنیا کھڑی ہے اسی میں کچھ حقیقت رہ گئی ہے نہیں پہچانا اس نے جب سے مجھ کو زمیں کچھ اجنبی سی لگ رہی ہے ہوا مجھ سے بہت ہی بد گماں ہے مگر مجھ سے ہی لگ کر چل رہی ہے اسی کو اپنا سرمایہ سمجھ لو اگر کچھ آس باقی رہ گئی ...

مزید پڑھیے

جہاں دار جتنی بھی سازش کرے گا

جہاں دار جتنی بھی سازش کرے گا خدا ہم پہ رحمت کی بارش کرے گا یہ شیشے کی آنکھیں یہ پتھر کے چہرے مرا درد کس سے گزارش کرے گا کسی کا جو ہمدرد ہوگا زمیں پر بہت گر کرے تو سفارش کرے گا عجب چیز ہے یہ ہنر کا خزانہ نہ جس کو ملے وہ نمائش کرے گا غزل جو بھی دیکھے گا سلطانؔ صاحب کہانی کی وہ کیا ...

مزید پڑھیے

کام ہیں اور ضروری کئی کرنے کے لئے

کام ہیں اور ضروری کئی کرنے کے لئے کون بیٹھا ہے ترے عشق میں مرنے کے لئے رات گزرے ہوئے خوابوں کی ردا اوڑھے تھی صبح تعبیر کے چلمن پہ بکھرنے کے لئے ایستادہ تھے ستارے تری دہلیز کے ساتھ چاند بے چپن تھا آنگن میں اترنے کے لئے دست فن کار کی فن کاری کا عالم یہ ہو نقش بے چپن ہو پتھر پہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 109 سے 4657