میں نے جس شخص کی برسوں سے طرف داری کی
میں نے جس شخص کی برسوں سے طرف داری کی
اس نے میرے ہی لیے جنگ کی تیاری کی
میرے بارے میں وہ تحقیق کیا کرتا ہے
مل گئی مجھ کو سند میری وفاداری کی
جن سے ایمان کی تصویر ہے ٹکڑے ٹکڑے
گفتگو وہ بھی کیا کرتے ہیں خودداری کی
چل دئے جانب منزل کو بہ ہم راہ جنوں
ہم نے تو فکر نہ کی راہ کی دشواری کی
بزم یاراں میں جو خاموش رہا کرتا تھا
آج اس شخص نے لفظوں کی شررباری کی
عشق میں دل کو تسلی نہیں ملنے والی
پھر مرے ساتھ مرے نفس نے مکاری کی
اٹھ گیا آج نقاب اس کے رخ زیبا سے
توڑ دی اس نے وہ زنجیر ہی دل داری کی
جس جہاں میں یوں عداوت کی چھری چلتی ہو
کیا ضرورت وہاں خورشیدؔ رواداری کی