حسن معصوم نہیں عشق پہ الزام کے بعد
حسن معصوم نہیں عشق پہ الزام کے بعد
آپ کا نام بھی آتا ہے مرے نام کے بعد
ہے یہی عالم معراج محبت شاید
اب کوئی نام نہیں لب پہ ترے نام کے بعد
اب محبت کی تمہیں لاج تو رکھنی ہوگی
لوگ لیتے ہیں ترا نام مرے نام کے بعد
نا مرادی سے مرے دل کی خلش کم نہ ہوئی
تشنگی اور بڑھی حسرت ناکام کے بعد
الجھنیں عشق میں کچھ اور بھی بڑھ جاتی ہیں
کبھی آغاز سے پہلے کبھی انجام کے بعد
میں خطا وار محبت سہی لیکن اے دوست
زندگی اور نکھر آئی اس الزام کے بعد