ہم تغافل کو ابتدا سمجھے
ہم تغافل کو ابتدا سمجھے
اور وہ درد کی دوا سمجھے
وہ تو بے گانگی میں تھے گویا
اور ہم ان کو آشنا سمجھے
شورش دل نے جو کہا ہم سے
اس کو ہم حکم آپ کا سمجھے
ان سے قائم ہوا ہے نقش وفا
کوئی ان کو نہ بے وفا سمجھے
آشنائے مراد ساحل ہے
وہ جو طوفاں کو ناخدا سمجھے
کل سر بزم ان اشاروں سے
کہیے خورشیدؔ آپ کیا سمجھے