شہلا نقوی کے تمام مواد

3 غزل (Ghazal)

    ہر فلک بوس عمارت ہے انا کی تصویر (ردیف .. ن)

    ہر فلک بوس عمارت ہے انا کی تصویر اور میں ٹوٹ کے گرتی ہوئی دیوار میں ہوں تم کو تنہائی کا احساس ہوا کیوں آخر میں تو مدت سے تمہارے در و دیوار میں ہوں شہر کے شہر پہ ہے نیند کا افسوں طاری میں ہوں خوش بخت کہ اک دیدۂ بے دار میں ہوں نہ سمندر نہ گھٹاؤں کی رہین منت بھیگتی اپنے ہی جذبات کی ...

    مزید پڑھیے

    دور سے آتی صدا پر رقصاں

    دور سے آتی صدا پر رقصاں پاؤں میرے ہیں صبا پر رقصاں اس کا آتا ہے اندھیرے میں خیال بجلیاں جیسے گھٹا پر رقصاں تیز آندھی میں حوادث کی ہم سوکھے پتے ہیں ہوا پر رقصاں میرے پندار کے مسمار محل میں ہوں اب ان کی بنا پر رقصاں خون آلودہ مرے پاؤں ہیں اور میں اپنی انا پر رقصاں شہلاؔ اس رہ ...

    مزید پڑھیے

    جئے جانے کے خواب میں زندہ

    جئے جانے کے خواب میں زندہ اک مسلسل سراب میں زندہ زندگی کے لئے ترستے لوگ زندگی کے عذاب میں زندہ ہاتھ آئی نہیں کوئی منزل ہیں سفر کے سراب میں زندہ خواب مرتے نہیں ہیں ذہنوں کے نغمہ جیسے رباب میں زندہ کشت دل لہلہائی اشکوں نے رنگ دنیا سحاب میں زندہ وہ نمو خیز کالی مٹی ہے شکل خوشبو ...

    مزید پڑھیے

5 نظم (Nazm)

    ریشم جال

    پیار کے ریشم لچھوں کو خود ہی الجھاتی ہوں پہروں بیٹھ دھنک رنگوں کو پھر سلجھاتی ہوں میری چاہت نے کاتے ہیں ریشم کے یہ سار ان میں الجھ جانے سے میں پھر کیوں گھبراتی ہوں اپنے خول میں ریشم کا کیڑا بھی خوش تو نہیں میں بھی تتلی بن کر موقع پا اڑ جاتی ہوں

    مزید پڑھیے

    نخل مریم

    ٹاٹ کے اک پردے کے پیچھے گھٹی ہوئی گلیوں کی فضا میں ایک کشیدہ کرنے والی گلکاری کی شائق لڑکی کرتی ہے ایسے گل باری ململ ہو جیسے اک کیاری حبس اور گرمی میں یہ مالن بیل چڑھائے پھول لگائے چکن کے ٹانکوں سے کھل جائیں ڈھیر چنبیلی کے لگ جائیں گجرے بیلے کے لہرائیں لمس سے دوشیزہ ہاتھوں ...

    مزید پڑھیے

    رات کا راہی

    رات کی کالی سڑک پر روشنی کا دائرہ ایک تنہا چاپ جیسے ہو مسافر کی صدا یہ قدم پر عزم تھے اس روشنی کی سمت میں پر حصار روشنی میں سست یوں پڑتے گئے تیرگی کے اس سفر میں روشنی کا یہ پڑاؤ راہرو کے واسطے اک دعوت آرام ہو روشنی کی حد پہ جا کر اس طرح ٹھٹکے قدم تیرگی میں ڈوبنا ان کو گوارا پھر نہ ...

    مزید پڑھیے

    نمو

    خزاں کے دور میں پھیلی برہنہ شاخوں نے جڑوں کی طرح سے رنگ شفق کو چوسا تھا سنہری دھوپ کی تابانیوں کو جذب کیا سفید برف کی نرمی کو یوں سمویا تھا کہ اب بہار کے آنے پہ وہ گلابی شفق گلوں کے روپ میں شاخوں پہ پھوٹ آئی ہے سفید برف نے پھولوں کی پنکھڑی کا بدن سنہری دھوپ نے پیلے گلوں کو ڈھالا ...

    مزید پڑھیے

    خود کلامی

    کیسی آباد ہے یہ تنہائی کس قدر بولتا ہے سناٹا رات تاریک بحر میں ناؤ خود کلامی کی رو میں بہتی ہوئی زیر لب گفتگو کی لہریں ہیں دھواں فضا میں سیاہی کی ان نقابوں میں نہ جانے کس نے یہ چھیڑی ہیں کون سنتا ہے

    مزید پڑھیے