دور سے آتی صدا پر رقصاں
دور سے آتی صدا پر رقصاں
پاؤں میرے ہیں صبا پر رقصاں
اس کا آتا ہے اندھیرے میں خیال
بجلیاں جیسے گھٹا پر رقصاں
تیز آندھی میں حوادث کی ہم
سوکھے پتے ہیں ہوا پر رقصاں
میرے پندار کے مسمار محل
میں ہوں اب ان کی بنا پر رقصاں
خون آلودہ مرے پاؤں ہیں
اور میں اپنی انا پر رقصاں
شہلاؔ اس رہ گزار شوق پہ چل
اس کے نقش کف پا پر رقصاں