شہلا نقوی کی غزل

    ہر فلک بوس عمارت ہے انا کی تصویر (ردیف .. ن)

    ہر فلک بوس عمارت ہے انا کی تصویر اور میں ٹوٹ کے گرتی ہوئی دیوار میں ہوں تم کو تنہائی کا احساس ہوا کیوں آخر میں تو مدت سے تمہارے در و دیوار میں ہوں شہر کے شہر پہ ہے نیند کا افسوں طاری میں ہوں خوش بخت کہ اک دیدۂ بے دار میں ہوں نہ سمندر نہ گھٹاؤں کی رہین منت بھیگتی اپنے ہی جذبات کی ...

    مزید پڑھیے

    دور سے آتی صدا پر رقصاں

    دور سے آتی صدا پر رقصاں پاؤں میرے ہیں صبا پر رقصاں اس کا آتا ہے اندھیرے میں خیال بجلیاں جیسے گھٹا پر رقصاں تیز آندھی میں حوادث کی ہم سوکھے پتے ہیں ہوا پر رقصاں میرے پندار کے مسمار محل میں ہوں اب ان کی بنا پر رقصاں خون آلودہ مرے پاؤں ہیں اور میں اپنی انا پر رقصاں شہلاؔ اس رہ ...

    مزید پڑھیے

    جئے جانے کے خواب میں زندہ

    جئے جانے کے خواب میں زندہ اک مسلسل سراب میں زندہ زندگی کے لئے ترستے لوگ زندگی کے عذاب میں زندہ ہاتھ آئی نہیں کوئی منزل ہیں سفر کے سراب میں زندہ خواب مرتے نہیں ہیں ذہنوں کے نغمہ جیسے رباب میں زندہ کشت دل لہلہائی اشکوں نے رنگ دنیا سحاب میں زندہ وہ نمو خیز کالی مٹی ہے شکل خوشبو ...

    مزید پڑھیے