ہم زاد
دوستوں کی رفاقتیں بھی درست بھول جانے کا غم سوا لیکن یاد رکھیں تو وسوسے ہیں بہت آنکھ چہرہ نظر کہاں سے لائیں اپنے ہی گھر چلیں ملیں سب سے ہم میں اک دوسرا ہی بستا ہے سچ ہے وہ ہم سبھوں سے اچھا ہے
دوستوں کی رفاقتیں بھی درست بھول جانے کا غم سوا لیکن یاد رکھیں تو وسوسے ہیں بہت آنکھ چہرہ نظر کہاں سے لائیں اپنے ہی گھر چلیں ملیں سب سے ہم میں اک دوسرا ہی بستا ہے سچ ہے وہ ہم سبھوں سے اچھا ہے
عمر رفتہ کے ریشمی لمحے دھند میں کھو گئے دھواں بن کر نغمہ و رنگ کے سبھی موسم رہ گئے ذہن میں خزاں بن کر بن گیا حال کتبۂ ماضی کیسی دنیا ہے اس کا ہر منظر سنگ بستہ عذاب لگتا ہے آنسوؤں کی کتاب لگتا ہے
اترتی رات کے زینے سے لگ کر سوچتا ہوں صبح جب ہوگی میں اپنی جستجو میں چل پڑوں گا ساعتوں کے ٹوٹتے صحرا سے نکلوں گا نئی منزل نیا جادو اجالا ہی اجالا دور تک انسانیت کا بول بالا خیال اچھا ہے خود کو بھول جانے کا چلو یوں بھی تو کر دیکھیں
اترتی شام سے پوچھیں گے جگنوؤں کا مزاج جنوں کے شہر میں راتوں کا کیا ہوا آخر افق پہ یوں تو سمٹ آئے تھے نئے منظر سلگتی آنکھوں میں حسرت ہراس تنہائی تمام شہر تماشا بنا تھا حیراں تھا مگر جب آنکھ کھلی وہی پرانے تماشے تھے اور مداری نئے