محمد علی اثر کے تمام مواد

9 غزل (Ghazal)

    متاع عمر گزشتہ سمیٹ کر لے جا

    متاع عمر گزشتہ سمیٹ کر لے جا جو ہو سکے تو مرا درد اپنے گھر لے جا تو جا رہا ہے تو میری سسکتی آنکھوں سے سلگتی شام پگھلتی ہوئی سحر لے جا اچٹتی آنکھوں سے تہذیب کا سفر کیسا تو اپنے آپ کو تاریخ کے ادھر لے جا حضور دوست اک آئینہ جگمگاتا ہے تو اپنی ذات کا پیکر تراش لے کر لے جا سلگ رہی ہے ...

    مزید پڑھیے

    کسی کا نقش جو پل بھر رہا ہے آنکھوں میں

    کسی کا نقش جو پل بھر رہا ہے آنکھوں میں بڑے خلوص سے گھر کر رہا ہے آنکھوں میں زمیں سے تا بہ ثریا ہے روشنی لیکن یہاں تو رات کا منظر رہا ہے آنکھوں میں چلا گیا ہے تصور کی سرحدوں سے پرے وہ ایک شخص جو اکثر رہا ہے آنکھوں میں ابھی ابھی کوئی شہر طرب سے گزرا ہے کسے دکھاؤں دھواں بھر رہا ہے ...

    مزید پڑھیے

    ہر طرف رات کا پھیلا ہوا دریا دیکھوں

    ہر طرف رات کا پھیلا ہوا دریا دیکھوں کس طرف جاؤں کہاں ٹھہروں کہ چہرا دیکھوں کس جگہ ٹھہروں کہ ماضی کا سراپا دیکھوں اپنے قدموں کے نشاں پر ترا رستہ دیکھوں کب سے میں جاگ رہا ہوں یہ بتاؤں کیسے آنکھ لگ جائے تو ممکن ہے سویرا دیکھوں نا خدا ذات کی پتوار سنبھالے رکھنا جب ہوا تیز چلے خود ...

    مزید پڑھیے

    غزل مزاج ہے یکسر غزل کا لہجہ ہے

    غزل مزاج ہے یکسر غزل کا لہجہ ہے سراپا جیسے نزاکت کا استعارہ ہے قدم قدم پہ چراغوں کی سانس رکتی ہے کہ اب تو شہروں میں جینا عذاب لگتا ہے جھلستی شام بدلنے لگی ہے پیراہن ترے بدن کی تمازت میں سحر کیسا ہے شگفتہ حرف نوا اجنبی سے لگتے ہیں اداس لفظوں سے اپنا قدیم رشتہ ہے نہ موسموں میں ...

    مزید پڑھیے

    آنسوؤں میں کبھی ڈھلی ہے رات

    آنسوؤں میں کبھی ڈھلی ہے رات درد بن کے کبھی اٹھی ہے رات کوئی سورج کہیں سے آ جائے کتنی ویران ہو گئی ہے رات صبح سے ہم کلام ہونے کو زینہ زینہ اتر رہی ہے رات پھر اجالوں کا خوں ہوا شاید قتل گاہوں میں بٹ گئی ہے رات دل میں کہرام کم نہ ہوگا اثرؔ تم بھی سو جاؤ سو گئی ہے رات

    مزید پڑھیے

تمام

4 نظم (Nazm)

    ہم زاد

    دوستوں کی رفاقتیں بھی درست بھول جانے کا غم سوا لیکن یاد رکھیں تو وسوسے ہیں بہت آنکھ چہرہ نظر کہاں سے لائیں اپنے ہی گھر چلیں ملیں سب سے ہم میں اک دوسرا ہی بستا ہے سچ ہے وہ ہم سبھوں سے اچھا ہے

    مزید پڑھیے

    البم

    عمر رفتہ کے ریشمی لمحے دھند میں کھو گئے دھواں بن کر نغمہ و رنگ کے سبھی موسم رہ گئے ذہن میں خزاں بن کر بن گیا حال کتبۂ ماضی کیسی دنیا ہے اس کا ہر منظر سنگ بستہ عذاب لگتا ہے آنسوؤں کی کتاب لگتا ہے

    مزید پڑھیے

    تسلی

    اترتی رات کے زینے سے لگ کر سوچتا ہوں صبح جب ہوگی میں اپنی جستجو میں چل پڑوں گا ساعتوں کے ٹوٹتے صحرا سے نکلوں گا نئی منزل نیا جادو اجالا ہی اجالا دور تک انسانیت کا بول بالا خیال اچھا ہے خود کو بھول جانے کا چلو یوں بھی تو کر دیکھیں

    مزید پڑھیے

    پرانے تماشے

    اترتی شام سے پوچھیں گے جگنوؤں کا مزاج جنوں کے شہر میں راتوں کا کیا ہوا آخر افق پہ یوں تو سمٹ آئے تھے نئے منظر سلگتی آنکھوں میں حسرت ہراس تنہائی تمام شہر تماشا بنا تھا حیراں تھا مگر جب آنکھ کھلی وہی پرانے تماشے تھے اور مداری نئے

    مزید پڑھیے