متاع عمر گزشتہ سمیٹ کر لے جا
متاع عمر گزشتہ سمیٹ کر لے جا جو ہو سکے تو مرا درد اپنے گھر لے جا تو جا رہا ہے تو میری سسکتی آنکھوں سے سلگتی شام پگھلتی ہوئی سحر لے جا اچٹتی آنکھوں سے تہذیب کا سفر کیسا تو اپنے آپ کو تاریخ کے ادھر لے جا حضور دوست اک آئینہ جگمگاتا ہے تو اپنی ذات کا پیکر تراش لے کر لے جا سلگ رہی ہے ...