تسلی محمد علی اثر 07 ستمبر 2020 شیئر کریں اترتی رات کے زینے سے لگ کر سوچتا ہوں صبح جب ہوگی میں اپنی جستجو میں چل پڑوں گا ساعتوں کے ٹوٹتے صحرا سے نکلوں گا نئی منزل نیا جادو اجالا ہی اجالا دور تک انسانیت کا بول بالا خیال اچھا ہے خود کو بھول جانے کا چلو یوں بھی تو کر دیکھیں