محمد علی اثر کی غزل

    متاع عمر گزشتہ سمیٹ کر لے جا

    متاع عمر گزشتہ سمیٹ کر لے جا جو ہو سکے تو مرا درد اپنے گھر لے جا تو جا رہا ہے تو میری سسکتی آنکھوں سے سلگتی شام پگھلتی ہوئی سحر لے جا اچٹتی آنکھوں سے تہذیب کا سفر کیسا تو اپنے آپ کو تاریخ کے ادھر لے جا حضور دوست اک آئینہ جگمگاتا ہے تو اپنی ذات کا پیکر تراش لے کر لے جا سلگ رہی ہے ...

    مزید پڑھیے

    کسی کا نقش جو پل بھر رہا ہے آنکھوں میں

    کسی کا نقش جو پل بھر رہا ہے آنکھوں میں بڑے خلوص سے گھر کر رہا ہے آنکھوں میں زمیں سے تا بہ ثریا ہے روشنی لیکن یہاں تو رات کا منظر رہا ہے آنکھوں میں چلا گیا ہے تصور کی سرحدوں سے پرے وہ ایک شخص جو اکثر رہا ہے آنکھوں میں ابھی ابھی کوئی شہر طرب سے گزرا ہے کسے دکھاؤں دھواں بھر رہا ہے ...

    مزید پڑھیے

    ہر طرف رات کا پھیلا ہوا دریا دیکھوں

    ہر طرف رات کا پھیلا ہوا دریا دیکھوں کس طرف جاؤں کہاں ٹھہروں کہ چہرا دیکھوں کس جگہ ٹھہروں کہ ماضی کا سراپا دیکھوں اپنے قدموں کے نشاں پر ترا رستہ دیکھوں کب سے میں جاگ رہا ہوں یہ بتاؤں کیسے آنکھ لگ جائے تو ممکن ہے سویرا دیکھوں نا خدا ذات کی پتوار سنبھالے رکھنا جب ہوا تیز چلے خود ...

    مزید پڑھیے

    غزل مزاج ہے یکسر غزل کا لہجہ ہے

    غزل مزاج ہے یکسر غزل کا لہجہ ہے سراپا جیسے نزاکت کا استعارہ ہے قدم قدم پہ چراغوں کی سانس رکتی ہے کہ اب تو شہروں میں جینا عذاب لگتا ہے جھلستی شام بدلنے لگی ہے پیراہن ترے بدن کی تمازت میں سحر کیسا ہے شگفتہ حرف نوا اجنبی سے لگتے ہیں اداس لفظوں سے اپنا قدیم رشتہ ہے نہ موسموں میں ...

    مزید پڑھیے

    آنسوؤں میں کبھی ڈھلی ہے رات

    آنسوؤں میں کبھی ڈھلی ہے رات درد بن کے کبھی اٹھی ہے رات کوئی سورج کہیں سے آ جائے کتنی ویران ہو گئی ہے رات صبح سے ہم کلام ہونے کو زینہ زینہ اتر رہی ہے رات پھر اجالوں کا خوں ہوا شاید قتل گاہوں میں بٹ گئی ہے رات دل میں کہرام کم نہ ہوگا اثرؔ تم بھی سو جاؤ سو گئی ہے رات

    مزید پڑھیے

    آوازوں کے جنگل میں سنائی نہیں دیتا

    آوازوں کے جنگل میں سنائی نہیں دیتا وہ بھیڑ ہے چہرا بھی سجھائی نہیں دیتا آفاق کی وسعت میں بکھرنے کو ہوں بے چین کیوں جسم کے زنداں سے رہائی نہیں دیتا وہ حق رفاقت کی روایت کا امیں ہے وہ حق بھی تو اک بھائی کو بھائی نہیں دیتا پڑ جائے اگر وقت تو اس دور میں کوئی پربت تو بڑی بات ہے رائی ...

    مزید پڑھیے

    مرے وجود سے آتی ہے اک صدا مجھ کو

    مرے وجود سے آتی ہے اک صدا مجھ کو کہ میرے جسم سے کر دے کوئی جدا مجھ کو مری تلاش کا حاصل فقط تحیر ہے میں کھو گیا ہوں کہاں خود نہیں پتا مجھ کو میں اپنے جسم کے اندر سمٹ کے بیٹھا ہوں بلا رہا ہے کہیں دور سے خدا مجھ کو میں تجھ کو دیکھوں مگر گفتگو نہ کر پاؤں خدا کے واسطے ایسی نہ دے سزا مجھ ...

    مزید پڑھیے

    ٹوٹ کر رہ گیا آئینے سے رشتہ اپنا

    ٹوٹ کر رہ گیا آئینے سے رشتہ اپنا ایک مدت ہوئی دیکھنا نہیں چہرا اپنا کوئی طوفان ہے نہ اب کوئی تلاطم دل میں ساحل درد پہ ٹھہرا ہے سفینہ اپنا لفظ و معنی کے نئے پھول ابھر آئیں گے نقش ہو جائے جو قرطاس پہ لہجہ اپنا یاد خوشبو ہے چھپانے سے کہاں چھپتی ہے موج گل خود ہی بنا لیتی ہے رستہ ...

    مزید پڑھیے

    سامنے خنجر رکھ کر دیکھیں

    سامنے خنجر رکھ کر دیکھیں دل ہے پھول کہ پتھر دیکھیں ایک جزیرہ ہو اور ہم تم چاروں اور سمندر دیکھیں اب کیا نام کی زیبائش ہی ہر گھر کی تختی پر دیکھیں دم خم ہے آندھی میں کتنا آؤ دیپ جلا کر دیکھیں آگ ہے دونوں کی آنکھوں میں جلتا ہے کس کا گھر دیکھیں سامنے منظر ہی آتے ہیں آپ اثرؔ پس ...

    مزید پڑھیے