البم محمد علی اثر 07 ستمبر 2020 شیئر کریں عمر رفتہ کے ریشمی لمحے دھند میں کھو گئے دھواں بن کر نغمہ و رنگ کے سبھی موسم رہ گئے ذہن میں خزاں بن کر بن گیا حال کتبۂ ماضی کیسی دنیا ہے اس کا ہر منظر سنگ بستہ عذاب لگتا ہے آنسوؤں کی کتاب لگتا ہے