محمد احمد کی غزل

    جائے گا دل کہاں ہوگا یہیں کہیں

    جائے گا دل کہاں ہوگا یہیں کہیں جب دل کا ہم نشیں ملتا نہیں کہیں یوں اس کی یاد ہے دل میں بسی ہوئی جیسے خزانہ ہو زیر زمیں کہیں ہم نے تمہارا غم دل میں چھپایا ہے دیکھا بھی ہے کبھی ایسا امیں کہیں میری دراز میں ہے اس کا خط دھرا اٹکا ہوا نہ ہو دل بھی وہیں کہیں ہے اس کا خط تو بس سیدھا ...

    مزید پڑھیے

    زندگانی کا بنا لیجے چلن حسن سلوک

    زندگانی کا بنا لیجے چلن حسن سلوک لوگ جیسے بھی ہوں رکھیے حسن ظن حسن سلوک سعی پیہم ہو کہ ہر دن زندگی کا خواب ہو ہر عمل حسن عمل ہو ہر جتن حسن سلوک رہبرو فتنہ گرو غارت گران دیں سنو الحذر اب چاہتا ہے یہ وطن حسن سلوک دھوپ ہے تو کیسا شکوہ آپ خود سایہ بنیں بے غرض کرتے ہیں سب سرو و سمن ...

    مزید پڑھیے

    ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا

    ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا اس پر مری زباں کو حد ادب میں رکھا کس نے سکھایا سائل کو بھوک کا ترانہ پھر کس نے لا کے کاسہ دست طلب میں رکھا مفلس کی چھت کے نیچے کمھلا گئے ہیں بچے پھولوں کو لا کے کس نے چشم غضب میں رکھا پروردگار نے تو تقویٰ کی بات کی تھی تم نے فضیلتوں کو نام و نسب ...

    مزید پڑھیے

    سراغ جادہ و منزل اگر نہیں ملتا

    سراغ جادہ و منزل اگر نہیں ملتا ہمیں کہیں سے جواز سفر نہیں ملتا لکھیں بھی دشت نوردی کا کچھ سبب تو کیا بجز کہ قیس کو لیلیٰ کا گھر نہیں ملتا یہاں فصیل انا حائل مسیحائی وہاں وہ لوگ جنہیں چارہ گر نہیں ملتا ہزار کوچۂ نکہت میں ڈالیے ڈیرے مگر وہ پھول سر رہ گزر نہیں ملتا پھر آبیاریٔ ...

    مزید پڑھیے

    اور کیا زندگی رہ گئی

    اور کیا زندگی رہ گئی اک مسلسل کمی رہ گئی وقت پھر درمیاں آ گیا بات پھر ان کہی رہ گئی پاس جنگل کوئی جل گیا راکھ ہر سو جمی رہ گئی زر کا ایندھن بنی فکر نو شاعری ادھ مری رہ گئی میں نہ رویا نہ کھل کر ہنسا ہر نفس تشنگی رہ گئی تم نہ آئے مری زندگی راہ تکتی ہوئی رہ گئی پاس دریا دلی رکھ ...

    مزید پڑھیے

    ہم اپنی حقیقت کس سے کہیں ہیں پیاسے کہ سیراب ہیں ہم

    ہم اپنی حقیقت کس سے کہیں ہیں پیاسے کہ سیراب ہیں ہم ہم صحرا ہیں اور جل تھل ہیں ہیں دریا اور پایاب ہیں ہم اب غم کوئی نہ سرشاری بس چلنے کی ہے تیاری اب دھوپ ہے پھیلی آنگن میں اور کچی نیند کے خواب ہیں ہم ہاں شمع تمنا بجھ بھی گئی اب دل تیرہ تاریک بہت اب حدت غم نہ جوش جنوں اے دشت طلب ...

    مزید پڑھیے

    کچھ نہیں آفتاب روزن ہے

    کچھ نہیں آفتاب روزن ہے ساتھ والا مکان روشن ہے یہ ستارے چہکتے ہیں کتنے آسماں کیا کسی کا آنگن ہے چاندنی ہے سفیر سورج کی چاند تو ظلمتوں کا مدفن ہے آگ ہے کوہسار کے نیچے برف تو پیرہن ہے اچکن ہے دائمی زندگی کی ہے ضامن یہ فنا جو بقا کی دشمن ہے یاد تار نفس پہ چڑیا ہے وحشتوں کا شمار ...

    مزید پڑھیے

    اب جو خواب گراں سے جاگے ہیں

    اب جو خواب گراں سے جاگے ہیں پاؤں سر پر رکھے ہیں بھاگے ہیں خار حسرت بھرے ہیں آنکھوں میں پاؤں میں خواہشوں کے تاگے ہیں خوف ہے وسوسے ہیں لیکن شکر عزم و ہمت جو اپنے آگے ہیں رخت امید ہے سفر کی جاں ساز و ساماں تو کچے دھاگے ہیں تم سے ملنا تو اک بہانہ ہے ہم تو دراصل خود سے بھاگے ہیں لاگ ...

    مزید پڑھیے

    بن کر جو کوئی سامنے آتا ہے آئنہ

    بن کر جو کوئی سامنے آتا ہے آئنہ خیمے میں دل کے آ کے لگاتا ہے آئنہ وہ کون ہے یہ مجھ سے کبھی پوچھتا نہیں میں کون ہوں یہ مجھ کو بتاتا ہے آئینہ اس عکس کے برعکس کوئی عکس ہے کہیں کیوں عکس کو برعکس دکھاتا ہے آئنہ خود کو سجائے جاتے ہیں وہ آئنے کو دیکھ جلووں سے ان کے خود کو سجاتا ہے ...

    مزید پڑھیے

    زخم کا اندمال ہوتے ہوئے

    زخم کا اندمال ہوتے ہوئے میں نے دیکھا کمال ہوتے ہوئے ہجر کی دھوپ کیوں نہیں ڈھلتی جشن شام وصال ہوتے ہوئے دے گئی مستقل خلش دل کو آرزو پائمال ہوتے ہوئے لوگ جیتے ہیں جینا چاہتے ہیں زندگانی وبال ہوتے ہوئے کس قدر اختلاف کرتا ہے وہ مرا ہم خیال ہوتے ہوئے پئے الزام آ رکیں مجھ پر ساری ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3