زندگانی کا بنا لیجے چلن حسن سلوک
زندگانی کا بنا لیجے چلن حسن سلوک
لوگ جیسے بھی ہوں رکھیے حسن ظن حسن سلوک
سعی پیہم ہو کہ ہر دن زندگی کا خواب ہو
ہر عمل حسن عمل ہو ہر جتن حسن سلوک
رہبرو فتنہ گرو غارت گران دیں سنو
الحذر اب چاہتا ہے یہ وطن حسن سلوک
دھوپ ہے تو کیسا شکوہ آپ خود سایہ بنیں
بے غرض کرتے ہیں سب سرو و سمن حسن سلوک
مسکرائیں رنج بانٹیں اور شجرکاری کریں
چاہتے ہیں آپ سے کوہ و دمن حسن سلوک
ہم برائی کو برائی سے بدل سکتے نہیں
راہرو ہو یا ہو کوئی راہزن حسن سلوک
آپ بھی احمدؔ فقط ناصح نہ بنئے کیجے کچھ
ہر ادا حسن ادا ہو ہر سخن حسن سلوک