جائے گا دل کہاں ہوگا یہیں کہیں
جائے گا دل کہاں ہوگا یہیں کہیں
جب دل کا ہم نشیں ملتا نہیں کہیں
یوں اس کی یاد ہے دل میں بسی ہوئی
جیسے خزانہ ہو زیر زمیں کہیں
ہم نے تمہارا غم دل میں چھپایا ہے
دیکھا بھی ہے کبھی ایسا امیں کہیں
میری دراز میں ہے اس کا خط دھرا
اٹکا ہوا نہ ہو دل بھی وہیں کہیں
ہے اس کا خط تو بس سیدھا سپاٹ سا
ہاں دل لگی بھی ہے اس میں کہیں کہیں
جتنا وہ دل ربا اتنا ہی بے وفا
دل کو ملا ہی کیوں ایسا حسیں کہیں
احمدؔ یہ دل مرا کیوں ہے بجھا بجھا
دل سے خفا نہ ہو دل کا مکیں کہیں