محمد احمد کی غزل

    بجھے اگر بدن کے کچھ چراغ تیرے ہجر میں

    بجھے اگر بدن کے کچھ چراغ تیرے ہجر میں جلا لیے سخن کے کچھ چراغ تیرے ہجر میں چمن خزاں خزاں ہو جب بجھا بجھا ہوا ہو دل کریں بھی کیا چمن کے کچھ چراغ تیرے ہجر میں شب فراق پر ہوا شب وصال کا گماں مہک اٹھے ملن کے کچھ چراغ تیرے ہجر میں اداسیوں کے حبس میں جو تیری یاد آ گئی تو جل اٹھے پون کے ...

    مزید پڑھیے

    اک عجب ہی سلسلہ تھا میں نہ تھا

    اک عجب ہی سلسلہ تھا میں نہ تھا مجھ میں کوئی رہ رہا تھا میں نہ تھا میں کسی کا عکس ہوں مجھ پر کھلا آئنے کا آئنہ تھا میں نہ تھا میں تمہارا مسئلہ ہرگز نہ تھا یہ تمہارا مسئلہ تھا میں نہ تھا پھر کھلا میں دونوں کے مابین ہوں اک ذرا سا فاصلہ تھا میں نہ تھا ایک زینے پر قدم جیسے رکیں تری ...

    مزید پڑھیے

    الگ تھلگ رہے کبھی کبھی سبھی کے ہو گئے

    الگ تھلگ رہے کبھی کبھی سبھی کے ہو گئے جنوں کا ہاتھ چھٹ گیا تو بے حسی کے ہو گئے طلب کی آنچ کیا بجھی بدن ہی راکھ ہو گیا ہوا کے ہاتھ کیا لگے گلی گلی کے ہو گئے بہت دنوں بسی رہی تری مہک خیال میں بہت دنوں تلک ترے خیال ہی کے ہو گئے چراغ شام بجھ گیا تو دل کے داغ جل اٹھے پھر ایسی روشنی ہوئی ...

    مزید پڑھیے

    ہوا چلے یا رکے خوش نما سماں ہو جائے

    ہوا چلے یا رکے خوش نما سماں ہو جائے یہ سات رنگ کا آنچل جو بادباں ہو جائے سلگ رہا ہوں کئی دن سے اپنے کمرے میں دریچہ کھولوں تو دنیا دھواں دھواں ہو جائے بدل کے نام سنا رکھی ہے اسے ہر بات یہ ایک بات بتا دوں تو رازداں ہو جائے میں اپنے آپ کو چھوڑ آیا ہوں کہیں پیچھے کچھ اور تیز چلوں میں ...

    مزید پڑھیے

    کہیں تھا میں مجھے ہونا کہیں تھا

    کہیں تھا میں مجھے ہونا کہیں تھا میں دریا تھا مگر صحرا نشیں تھا شکست و ریخت کیسی فتح کیسی کہ جب کوئی مقابل ہی نہیں تھا ملے تھے ہم تو موسم ہنس دیئے تھے جہاں جو بھی ملا خنداں جبیں تھا سویرا تھا شب تیرہ کے آگے جہاں دیوار تھی رستہ وہیں تھا ملی منزل کسے کار وفا میں مگر یہ راستہ کتنا ...

    مزید پڑھیے

    جا کے پچھتائیں گے نہ جا کے بھی پچھتائیے گا

    جا کے پچھتائیں گے نہ جا کے بھی پچھتائیے گا آپ جاتے ہیں وہاں اچھا چلے جائیے گا میں کئی دن ہوئے خود سے ہی جھگڑ بیٹھا ہوں آپ فرصت سے کسی دن مجھے سمجھائیے گا میں خیالوں میں بھٹک جاتا ہوں بیٹھے بیٹھے بھیج آہٹ کا سندیسہ مجھے بلوائیے گا میں نے ظلمت میں گزارے ہیں کئی قرن سو آپ روشنی سے ...

    مزید پڑھیے

    مرے رات دن کبھی یوں بھی تھے کئی خواب میرے دروں بھی تھے

    مرے رات دن کبھی یوں بھی تھے کئی خواب میرے دروں بھی تھے یہ جو روز و شب ہیں قرار میں یہی پہلے وقف جنوں بھی تھے مرا دل بھی تھا کبھی آئنہ کسی جام جم سے بھی ماورا یہ جو گرد غم سے ہے بجھ گیا اسی آئنے میں فسوں بھی تھے یہ مقام یوں تو فغاں کا تھا پہ ہنسے کہ طور جہاں کا تھا تھا بہت کڑا یہ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3