اور کیا زندگی رہ گئی
اور کیا زندگی رہ گئی
اک مسلسل کمی رہ گئی
وقت پھر درمیاں آ گیا
بات پھر ان کہی رہ گئی
پاس جنگل کوئی جل گیا
راکھ ہر سو جمی رہ گئی
زر کا ایندھن بنی فکر نو
شاعری ادھ مری رہ گئی
میں نہ رویا نہ کھل کر ہنسا
ہر نفس تشنگی رہ گئی
تم نہ آئے مری زندگی
راہ تکتی ہوئی رہ گئی
پاس دریا دلی رکھ لیا
لاکھ تشنہ لبی رہ گئی
پھر فنا کا پیام آ گیا
ایک امید تھی رہ گئی
آپ احمدؔ کہاں رہ گئے
اور کہاں زندگی رہ گئی