محمد احمد کی غزل

    جز رشتۂ خلوص یہ رشتہ کچھ اور تھا

    جز رشتۂ خلوص یہ رشتہ کچھ اور تھا تم میرے اور کچھ میں تمہارا کچھ اور تھا جو خواب تم نے مجھ کو سنایا تھا اور کچھ تعبیر کہہ رہی ہے کہ سپنا کچھ اور تھا ہم راہیوں کو جشن منانے سے تھی غرض منزل ہنوز دور تھی رستہ کچھ اور تھا امید و بیم عشرت و عسرت کے درمیاں اک کشمکش کچھ اور تھی، کچھ تھا ...

    مزید پڑھیے

    نہ جب دکھلائے کچھ بھی آنکھ پیارے

    نہ جب دکھلائے کچھ بھی آنکھ پیارے تو پھر تو اپنے اندر جھانک پیارے تلاطم خیز ہے جو دل کا دریا سفال دشت وحشت پھانک پیارے اگر مہتاب دل کا بجھ گیا ہے سر مژگاں ستارے ٹانک پیارے ہے الفت سے دگر اظہار الفت نہ اک لاٹھی سے سب کو ہانک پیارے

    مزید پڑھیے

    یاد آتے رہنا بس

    یاد آتے رہنا بس دل دکھاتے رہنا بس اور کام کیا تم کو آزماتے رہنا بس دل پہ گرد کتنی ہو چمچماتے رہنا بس زندگی یہی تو ہے مسکراتے رہنا بس حال دل رہے دل میں گنگناتے رہنا بس سیکھنا ہر اچھی بات اور سکھاتے رہنا بس بات بات پر ہنسنا اور ہنساتے رہنا بس دل شکستہ کوئی ہو دل بڑھاتے رہنا ...

    مزید پڑھیے

    پس مرگ تمنا کون دیکھے

    پس مرگ تمنا کون دیکھے مرے نقش کف پا کون دیکھے کوئی دیکھے مری آنکھوں میں آ کر مگر دریا میں صحرا کون دیکھے اب اس دشت طلب میں کون آئے سرابوں کا تماشہ کون دیکھے اگرچہ دامن دل ہے دریدہ درون نخل تازہ کون دیکھے بہت مربوط رہتا ہوں میں سب سے مری بے ربط دنیا کون دیکھے شمار اشک شمع بزم ...

    مزید پڑھیے

    سڑکوں پر اک سیل بلا تھا لوگوں کا

    سڑکوں پر اک سیل بلا تھا لوگوں کا میں تنہا تھا اس میں کیا تھا لوگوں کا دنیا تھی بے فیض رفاقت کی بستی جیون کیا تھا اک صحرا تھا لوگوں کا سود و زیاں کے مشکیزے پر لڑتے تھے دل کا دریا سوکھ گیا تھا لوگوں کا میں پہنچا تو میرا نام فضا میں تھا ہنستے ہنستے رنگ اڑا تھا لوگوں کا نفرت کی ...

    مزید پڑھیے

    دن بھلے جیسا کٹے سانجھ سمے خواب تو دیکھ

    دن بھلے جیسا کٹے سانجھ سمے خواب تو دیکھ چھوڑ تعبیر کے خدشوں کو ارے خواب تو دیکھ جھونپڑی میں ہی بنا اپنے خیالوں کا محل گو پرانا ہے بچھونا تو نئے خواب تو دیکھ تیرا ہر خواب مسرت کی بشارت لائے سچ ترے خواب ہوں اللہ کرے خواب تو دیکھ دل شکستہ میں ہوا جب بھی مرا دل ٹوٹا حوصلے آگے بڑھے ...

    مزید پڑھیے

    اب کس سے کہیں کہ کیا ہوا تھا

    اب کس سے کہیں کہ کیا ہوا تھا اک حشر یہاں بپا رہا تھا دستار کہ پاؤں میں پڑی تھی سردار کسی پہ ہنس رہا تھا وہ شام گزر گئی تھی آ کے رنجور اداس میں کھڑا تھا دہلیز جکڑ رہی تھی پاؤں پندار مگر اڑا ہوا تھا صد شکر گڑھا ہوا تھا قصہ کم بخت یقین آ گیا تھا اک بار ہی آزما تو لیتے در بند نہ تھا ...

    مزید پڑھیے

    اشک ہو آنکھیں بھگونا ہو تو پھر

    اشک ہو آنکھیں بھگونا ہو تو پھر آنکھ میں سپنا سلونا ہو تو پھر کب تلک بخیہ گری کا شوق بھی عمر بھر سینا پرونا ہو تو پھر دوست انٹرنیٹ پر اچھا چلو اور گلے جو لگ کے رونا ہو تو پھر وہ مری دل جوئی کو حاضر مگر اس کا ہونا بھی نہ ہونا ہو تو پھر اس کو پانے کی طلب پر سوچ لو اس کو پانا اس کو ...

    مزید پڑھیے

    کوئی مہرباں نہیں ساتھ میں کوئی ہات بھی نہیں ہات میں

    کوئی مہرباں نہیں ساتھ میں کوئی ہات بھی نہیں ہات میں ہیں اداسیاں مری منتظر سبھی راستوں میں جہات میں ہے خبر مجھے کہ یہ تم نہیں کسی اجنبی کو بھی کیا پڑی سبھی آشنا بھی ہیں روبرو تو یہ کون ہے مری گھات میں یہ اداسیوں کا جو رنگ ہے کوئی ہو نہ ہو مرے سنگ ہے مرے شعر میں مری بات میں مری ...

    مزید پڑھیے

    اس طرح بیٹھے ہو کیوں بیزار سے

    اس طرح بیٹھے ہو کیوں بیزار سے بھر گیا دل راحت دیدار سے اشک کیا ڈھلکا ترے رخسار سے گر پڑا ہوں جیسے میں کہسار سے در کھلا تو میری ہی جانب کھلا سر پٹختا رہ گیا دیوار سے ایک دن خاموش ہو کر دیکھیے لطف گر اٹھنے لگے تکرار سے دیکھ لو یہ زرد آنکھیں خشک ہونٹ پوچھتے ہو حال کیا بیمار ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3