محمد احمد کی نظم

    ٹھیک ہے شہر میں

    ٹھیک ہے شہر میں قتل و غارت گری کی نئی لہر ہے پر نئی بات کیا یہ تو معمول ہے ٹھیک ہے کہ کئی بے گناہ آگ اور خون کے کھیل میں زندگی ہار کر جینے والوں کے بھی حوصلے لے گئے اور پسماندگاں دیکھتے رہ گئے یہ بھی معمول ہے شہر اب پھر سے مصروف و مشغول ہے ٹھیک ہے کہ ستم کالی آندھی کی مانند چھایا ...

    مزید پڑھیے

    شاعری

    رات خوشبو کا ترجمہ کرکے میں نے قرطاس ساز پر رکھا صبح دم چہچہاتی چڑیا نے مجھ سے آ کر کہا یہ نغمہ ہے میں نے دیکھا کہ میرے کمرے میں چار سو تتلیاں پریشاں ہیں اور دریچے سے جھانکتا اندر لہلہاتا گلاب تنہا ہے

    مزید پڑھیے

    منظر سے پس منظر تک

    کھڑکی پر مہتاب ٹکا تھا رات سنہری تھی اور دیوار پہ ساعت گنتی سوئی سوئی گھڑی کی سوئی چلتے چلتے سمت گنوا کر غلطاں پیچاں تھی میں بھی خود سے آنکھ چرا کر اپنے حال سے ہاتھ چھڑا کر برسوں کو فرسنگ بنا کر جانے کتنی دور چلا تھا جانے کس کو ڈھونڈ رہا تھا دھندلے دھندلے چہرے کیسے رنگ رنگیلے ...

    مزید پڑھیے

    ایک خیال کی رو میں

    کہیں سنا ہے گئے زمانوں میں لوگ جب قافلوں کی صورت مسافتوں کو عبور کرتے تو قافلے میں اک ایسا ہم راہ ساتھ ہوتا کہ جو سفر میں تمام لوگوں کے پیچھے چلتا اور اس کے ذمے یہ کام ہوتا کہ آگے جاتے مسافروں سے اگر کوئی چیز گر گئی ہو جو کوئی شے پیچھے رہ گئی ہو تو وہ مسافر تمام چیزوں کو چنتا ...

    مزید پڑھیے

    حیرت

    ایک بستی تماش بینوں کی اک ہجوم اژدہام لوگوں کا دیکھ میرے تن برہنہ کو ہنستا ہے قہقہے لگاتا ہے اور میں ششدر ہوں دیکھ کر ان کو سب کے سب لوگ ہیں برہنہ تن

    مزید پڑھیے

    رشک بھرے دو سوال

    کاسنی رنگ کا وہ جو چھوٹا سا پھول اس کے بالوں میں ہے کن خیالوں میں ہے اور آویزے جو جھلملاتے ہوئے اس کے کانوں میں ہیں کن اڑانوں میں ہیں

    مزید پڑھیے