محمد احمد کے تمام مواد

27 غزل (Ghazal)

    جائے گا دل کہاں ہوگا یہیں کہیں

    جائے گا دل کہاں ہوگا یہیں کہیں جب دل کا ہم نشیں ملتا نہیں کہیں یوں اس کی یاد ہے دل میں بسی ہوئی جیسے خزانہ ہو زیر زمیں کہیں ہم نے تمہارا غم دل میں چھپایا ہے دیکھا بھی ہے کبھی ایسا امیں کہیں میری دراز میں ہے اس کا خط دھرا اٹکا ہوا نہ ہو دل بھی وہیں کہیں ہے اس کا خط تو بس سیدھا ...

    مزید پڑھیے

    زندگانی کا بنا لیجے چلن حسن سلوک

    زندگانی کا بنا لیجے چلن حسن سلوک لوگ جیسے بھی ہوں رکھیے حسن ظن حسن سلوک سعی پیہم ہو کہ ہر دن زندگی کا خواب ہو ہر عمل حسن عمل ہو ہر جتن حسن سلوک رہبرو فتنہ گرو غارت گران دیں سنو الحذر اب چاہتا ہے یہ وطن حسن سلوک دھوپ ہے تو کیسا شکوہ آپ خود سایہ بنیں بے غرض کرتے ہیں سب سرو و سمن ...

    مزید پڑھیے

    ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا

    ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا اس پر مری زباں کو حد ادب میں رکھا کس نے سکھایا سائل کو بھوک کا ترانہ پھر کس نے لا کے کاسہ دست طلب میں رکھا مفلس کی چھت کے نیچے کمھلا گئے ہیں بچے پھولوں کو لا کے کس نے چشم غضب میں رکھا پروردگار نے تو تقویٰ کی بات کی تھی تم نے فضیلتوں کو نام و نسب ...

    مزید پڑھیے

    سراغ جادہ و منزل اگر نہیں ملتا

    سراغ جادہ و منزل اگر نہیں ملتا ہمیں کہیں سے جواز سفر نہیں ملتا لکھیں بھی دشت نوردی کا کچھ سبب تو کیا بجز کہ قیس کو لیلیٰ کا گھر نہیں ملتا یہاں فصیل انا حائل مسیحائی وہاں وہ لوگ جنہیں چارہ گر نہیں ملتا ہزار کوچۂ نکہت میں ڈالیے ڈیرے مگر وہ پھول سر رہ گزر نہیں ملتا پھر آبیاریٔ ...

    مزید پڑھیے

    اور کیا زندگی رہ گئی

    اور کیا زندگی رہ گئی اک مسلسل کمی رہ گئی وقت پھر درمیاں آ گیا بات پھر ان کہی رہ گئی پاس جنگل کوئی جل گیا راکھ ہر سو جمی رہ گئی زر کا ایندھن بنی فکر نو شاعری ادھ مری رہ گئی میں نہ رویا نہ کھل کر ہنسا ہر نفس تشنگی رہ گئی تم نہ آئے مری زندگی راہ تکتی ہوئی رہ گئی پاس دریا دلی رکھ ...

    مزید پڑھیے

تمام

6 نظم (Nazm)

    ٹھیک ہے شہر میں

    ٹھیک ہے شہر میں قتل و غارت گری کی نئی لہر ہے پر نئی بات کیا یہ تو معمول ہے ٹھیک ہے کہ کئی بے گناہ آگ اور خون کے کھیل میں زندگی ہار کر جینے والوں کے بھی حوصلے لے گئے اور پسماندگاں دیکھتے رہ گئے یہ بھی معمول ہے شہر اب پھر سے مصروف و مشغول ہے ٹھیک ہے کہ ستم کالی آندھی کی مانند چھایا ...

    مزید پڑھیے

    شاعری

    رات خوشبو کا ترجمہ کرکے میں نے قرطاس ساز پر رکھا صبح دم چہچہاتی چڑیا نے مجھ سے آ کر کہا یہ نغمہ ہے میں نے دیکھا کہ میرے کمرے میں چار سو تتلیاں پریشاں ہیں اور دریچے سے جھانکتا اندر لہلہاتا گلاب تنہا ہے

    مزید پڑھیے

    منظر سے پس منظر تک

    کھڑکی پر مہتاب ٹکا تھا رات سنہری تھی اور دیوار پہ ساعت گنتی سوئی سوئی گھڑی کی سوئی چلتے چلتے سمت گنوا کر غلطاں پیچاں تھی میں بھی خود سے آنکھ چرا کر اپنے حال سے ہاتھ چھڑا کر برسوں کو فرسنگ بنا کر جانے کتنی دور چلا تھا جانے کس کو ڈھونڈ رہا تھا دھندلے دھندلے چہرے کیسے رنگ رنگیلے ...

    مزید پڑھیے

    ایک خیال کی رو میں

    کہیں سنا ہے گئے زمانوں میں لوگ جب قافلوں کی صورت مسافتوں کو عبور کرتے تو قافلے میں اک ایسا ہم راہ ساتھ ہوتا کہ جو سفر میں تمام لوگوں کے پیچھے چلتا اور اس کے ذمے یہ کام ہوتا کہ آگے جاتے مسافروں سے اگر کوئی چیز گر گئی ہو جو کوئی شے پیچھے رہ گئی ہو تو وہ مسافر تمام چیزوں کو چنتا ...

    مزید پڑھیے

    حیرت

    ایک بستی تماش بینوں کی اک ہجوم اژدہام لوگوں کا دیکھ میرے تن برہنہ کو ہنستا ہے قہقہے لگاتا ہے اور میں ششدر ہوں دیکھ کر ان کو سب کے سب لوگ ہیں برہنہ تن

    مزید پڑھیے

تمام