حیرت

ایک بستی تماش بینوں کی
اک ہجوم
اژدہام لوگوں کا
دیکھ میرے تن برہنہ کو
ہنستا ہے
قہقہے لگاتا ہے
اور میں ششدر ہوں
دیکھ کر ان کو
سب کے سب لوگ ہیں برہنہ تن