نظم
وہ سب بھیڑیے ہیں مگر جانتے بوجھتے غول در غول بھیڑیں خون اپنا پلانے انہیں جا رہی ہیں تو جائیں شب ہی انہیں روکنا ہے یہ منظر مجھے دیکھنا ہے یہ کیسا مزا ہے
نئی غزل کے ممتاز شاعر
وہ سب بھیڑیے ہیں مگر جانتے بوجھتے غول در غول بھیڑیں خون اپنا پلانے انہیں جا رہی ہیں تو جائیں شب ہی انہیں روکنا ہے یہ منظر مجھے دیکھنا ہے یہ کیسا مزا ہے
بازار میں نقلی موتیوں کی بہتات ہے تو کیا ہوا تم سچے موتیوں کا بھاؤ نہ گراؤ کسی کے آنسوؤں کا مذاق نہ اڑاؤ خواہ وہ خیر جانے دو کون جانے کب کوئی سچ مچ رو رہا ہو
فاحشہ عورتو کیا کوئی تم میں ایسا نہیں جو مجھے اس طرح چھل سکے میں نشاط گماں کے سرور عجب جاوداں کو لئے نرم آغوش سے سخت آغوش تک ایک برحق سفر کروں فاحشہ عورتو وہ قریب مسلسل کی دولت کہاں سے ملے کیا کوئی تم میں ایسا نہیں مجھ سے جو جھوٹ کو سونگھ لینے کی خو چھین لے جستجو چھین لے
کہتے ہیں کھوٹے سکے بازار میں ہمیشہ نہیں چلتے ہم دیکھتے ہیں کھوٹے سکے ہمیشہ بازار میں چلتے رہتے ہیں کھوٹے سکوں کے لئے ہمیشگی کی تعریف شاید مختلف ہے
سکوت آب میں اک بے خبر مچھلی کسی بے مہر کانٹے کو نگل کر جوں ہی سطح آب سے ادھر اٹھ آتی ہے تڑپتی ہے تو اس کے ساتھ کی ہر با خبر مچھلی سمجھتی ہے کہ اس کے ایک ساتھی کو کسی دیوانگی نے آ دبوچا ہے
رات جنگل گھنا وہ گرجتی ہوا دو درختوں کی کونپل بھری ڈالیاں ایک سے ایک اس طرح ٹکرا گئیں جیسے برسوں جدائی میں جلتے بدن بات پوری سنو تم تو شرما گئیں آگ پیدا ہوئی پیڑ جلنے لگے شور برپا ہوا ہر طرف دھواں ہی دھواں اور پھر نہ پوچھو کہ پھر کیا ہوا راکھ کے ڈھیر کو اب مناسب نہیں چھیڑنا
میں اس سے نفرت کرتا ہوں کیونکہ وہ مجھ سے ویسی محبت نہیں کرتا جیسی محبت میں اس سے کرتا ہوں وہ مجھ سے محبت کرتا ہے کیونکہ میں اس سے ویسی نفرت نہیں کرتا جیسی نفرت وہ مجھ سے کرتا ہے
نہیں مسئلہ یہ نہیں یہ کوئی دکھ نہیں سو مصائب یہ بے سمتیاں جسم اور روح کی بے کلی درد اپنے پرائے کئی مشترک سوچ کی دوزخیں جنگ ایٹم ہوں کی وغیرہ وغیرہ کوئی دکھ نہیں دکھ تو یہ ہے کہ میں ساتھ اپنے دکھوں کا جو سرمایہ لایا تھا وہ ختم ہوتا نہیں