Mohammad Aazam

محمد اعظم

نئی غزل کے ممتاز شاعر

محمد اعظم کی نظم

    نظم

    وہ سب بھیڑیے ہیں مگر جانتے بوجھتے غول در غول بھیڑیں خون اپنا پلانے انہیں جا رہی ہیں تو جائیں شب ہی انہیں روکنا ہے یہ منظر مجھے دیکھنا ہے یہ کیسا مزا ہے

    مزید پڑھیے

    سچے موتی

    بازار میں نقلی موتیوں کی بہتات ہے تو کیا ہوا تم سچے موتیوں کا بھاؤ نہ گراؤ کسی کے آنسوؤں کا مذاق نہ اڑاؤ خواہ وہ خیر جانے دو کون جانے کب کوئی سچ مچ رو رہا ہو

    مزید پڑھیے

    تلاش فریب مطلق کی

    فاحشہ عورتو کیا کوئی تم میں ایسا نہیں جو مجھے اس طرح چھل سکے میں نشاط گماں کے سرور عجب جاوداں کو لئے نرم آغوش سے سخت آغوش تک ایک برحق سفر کروں فاحشہ عورتو وہ قریب مسلسل کی دولت کہاں سے ملے کیا کوئی تم میں ایسا نہیں مجھ سے جو جھوٹ کو سونگھ لینے کی خو چھین لے جستجو چھین لے

    مزید پڑھیے

    کھوٹے سکے

    کہتے ہیں کھوٹے سکے بازار میں ہمیشہ نہیں چلتے ہم دیکھتے ہیں کھوٹے سکے ہمیشہ بازار میں چلتے رہتے ہیں کھوٹے سکوں کے لئے ہمیشگی کی تعریف شاید مختلف ہے

    مزید پڑھیے

    با خبری

    سکوت آب میں اک بے خبر مچھلی کسی بے مہر کانٹے کو نگل کر جوں ہی سطح آب سے ادھر اٹھ آتی ہے تڑپتی ہے تو اس کے ساتھ کی ہر با خبر مچھلی سمجھتی ہے کہ اس کے ایک ساتھی کو کسی دیوانگی نے آ دبوچا ہے

    مزید پڑھیے

    اک کہانی سنوگی

    رات جنگل گھنا وہ گرجتی ہوا دو درختوں کی کونپل بھری ڈالیاں ایک سے ایک اس طرح ٹکرا گئیں جیسے برسوں جدائی میں جلتے بدن بات پوری سنو تم تو شرما گئیں آگ پیدا ہوئی پیڑ جلنے لگے شور برپا ہوا ہر طرف دھواں ہی دھواں اور پھر نہ پوچھو کہ پھر کیا ہوا راکھ کے ڈھیر کو اب مناسب نہیں چھیڑنا

    مزید پڑھیے

    میں اس سے نفرت (محبت) کرتا ہوں

    میں اس سے نفرت کرتا ہوں کیونکہ وہ مجھ سے ویسی محبت نہیں کرتا جیسی محبت میں اس سے کرتا ہوں وہ مجھ سے محبت کرتا ہے کیونکہ میں اس سے ویسی نفرت نہیں کرتا جیسی نفرت وہ مجھ سے کرتا ہے

    مزید پڑھیے

    مسئلہ یہ نہیں

    نہیں مسئلہ یہ نہیں یہ کوئی دکھ نہیں سو مصائب یہ بے سمتیاں جسم اور روح کی بے کلی درد اپنے پرائے کئی مشترک سوچ کی دوزخیں جنگ ایٹم ہوں کی وغیرہ وغیرہ کوئی دکھ نہیں دکھ تو یہ ہے کہ میں ساتھ اپنے دکھوں کا جو سرمایہ لایا تھا وہ ختم ہوتا نہیں

    مزید پڑھیے